عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں میڈیا سے گفتگو میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کچھ پیش رفت کی تصدیق کی، لیکن مکمل کامیابی ابھی باقی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے رابطے اور بات چیت کو آگے بڑھنے میں مدد ملی ہے۔ عراقچی کے مطابق ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجوہات امریکا کی غلط پالیسیاں اور زیادہ مطالبات تھے، جنہوں نے حتمی معاہدے میں رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں میں ماضی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ مذاکرات کے طریقہ کار و شرائط پر بات چیت ہوئی ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ وہ روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے، جو موجودہ جنگی صورتحال اور خطے کی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کا اہم موقع ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران اور روس کے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری ہے، اور موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے روابط اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایران، روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔