وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کا مارچ ملتوی ہونے پر سوشل میڈیا پر تین مزاحیہ پوسٹرز شیئر کردیے۔
عظمیٰ بخاری نے ایکس پر شیئر کیے گئے پہلے پوسٹر میں لکھا کہ ’’انتشار مارچ ملتوی، اسلام آباد نے سکھ کا سانس لیا اور مارچ نے اگلی تاریخ تک سکھ کا سانس لیا۔‘‘دوسرے پوسٹر میں سوال کیا گیا ’’اسلام آباد آرہے ہو؟‘‘ جس پر جواب دیا گیا ’’انتشار مارچ: نہیں، ابھی نہیں‘‘، جبکہ اسلام آباد کی جانب سے مزاحیہ انداز میں جواب دیا گیا ’’اچھا، میں بھی آرام کرلیتا ہوں۔‘‘تیسرے پوسٹر میں سہیل آفریدی کارکنوں سے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں ’’آزادی یا موت؟‘‘ جس پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مزاحیہ جواب ’’تو رین دے بھائی‘‘ دکھایا گیا۔ تینوں پوسٹرز میں سہیل آفریدی کو افسردہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔علاوہ ازیں عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے سنگین واقعات پیش آرہے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی توجہ امن و امان کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد کسی صوبائی عہدیدار کا نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔