وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کے معاملے پر ایران سے بات چیت ہوئی ہے، جبکہ ایرانی قیادت نے حوثی ملیشیا سے بات کرنے کی بات کی ہے۔
خصوصی انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب پر کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کے لیے سعودی عرب کا ساتھ دینا اہم ذمہ داری بن جاتا ہے۔وزیر دفاع کے مطابق سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کا جواب دینا مکہ دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات میں پاکستان نے خطے میں سرگرم نان اسٹیٹ ایکٹرز کا معاملہ بھی واضح طور پر اٹھایا۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کو کسی نہ کسی طریقے سے غیر مؤثر بنانا ضروری ہے، کیونکہ ان کی کارروائیاں خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی اور بدامنی بالآخر تمام فریقوں کے عوام کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت سے اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ کسی ملک میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ ایرانی قیادت نے حوثی ملیشیا سے بات چیت کرنے کی بات کی ہے، تاہم اس حوالے سے عملی پیشرفت کا انحصار آئندہ اقدامات پر ہوگا۔ملک میں سیاسی کشیدگی کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی نے احتجاج اور تصادم کا راستہ اختیار کیا۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی ادارے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ پولیس اور امن و امان کا بنیادی انتظام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ترامیم کے ذریعے پولیس سے اختیارات لینا چاہتی ہے تاکہ پولیس اس کے کنٹرول میں رہے، جس سے صوبے میں امن و امان کے مؤثر انتظامی اقدامات متاثر ہوسکتے ہیں۔گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ آئین میں اس حوالے سے طریقہ کار موجود ہے۔ اگر ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہوں جو آئینی تقاضوں کے تحت انتہائی اقدام کا جواز فراہم کریں تو آئین کے مطابق فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئینی تقاضوں اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کیا جاسکتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ وہ صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق اختیارات صرف صوبوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں ضلعی، تحصیل اور مقامی حکومتوں کی سطح تک بھی منتقل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں ارتقائی عمل جاری ہے اور وقت کے ساتھ مختلف معاملات مزید واضح ہوں گے۔