خواجہ آصف: "99 فیصد مطالبات منظور ہوئے تو احتجاج کس بات کا؟"

خواجہ آصف:

سیالکوٹ: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 99 فیصد مطالبات منظور ہو چکے ہیں تو پھر احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ صرف "مذاکرات، مذاکرات کھیل رہی تھی۔"

پرامن احتجاج پر اعتراض نہیں، مگر پی ٹی آئی کے احتجاج پرتشدد ہوتے ہیں
سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ "اگر پرامن احتجاج ہو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن پی ٹی آئی کا ہر احتجاج اور جلوس پرتشدد ہوتا ہے۔" انہوں نے سوال کیا کہ "ایسے احتجاج پنجاب، سندھ یا بلوچستان میں نظر کیوں نہیں آتے؟ پی ٹی آئی کی قیادت دیگر تین صوبوں میں کیوں نظر نہیں آتی؟"

گنڈاپور کے بیان پر ردعمل
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "گنڈاپور کا کہنا ہے کہ ان کے 99 فیصد مطالبات تسلیم ہو چکے ہیں، تو پھر احتجاج کس بات کا؟" انہوں نے مزید کہا کہ "26 نومبر کو بھی سرکاری ملازمین کو احتجاج میں لایا گیا تھا۔"

"ٹرمپ آیا، مگر پی ٹی آئی کے حق میں کچھ نہ ہوا"
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی ایک ہنگامہ کھڑا کر رہی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئے گا تو ان کے لیے کوئی بڑا فائدہ ہوگا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی اپنی پارٹی کارکنوں کو صرف دلاسے دیتی ہے۔"

"ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی اقتدار سے محروم ہوئے"
خواجہ آصف نے کہا کہ "ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو بھی اقتدار سے محروم کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔"

مہنگائی اور بجلی کے نرخوں میں کمی کا دعویٰ
وزیر دفاع نے حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "ایک سال میں شرح سود اور مہنگائی کم ہوئی ہے، بجلی کے نرخ مزید کم ہوں گے۔" انہوں نے کہا کہ "جس طرح قذافی اسٹیڈیم میں رونق لگی، ایسی رونق خیبر پختونخوا میں بھی لگنی چاہیے۔"