سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام دلانے اور عالمی سطح پر وقار بحال کرنے کے لیے کھوئی ہوئی لیڈر شپ کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار سیالکوٹ میں ریڈی میڈ گارمنٹس ایسوسی ایشن کے صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا۔
فقروں کی بھرمار اور ویزہ مسائل:
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک ویزہ کے مسائل کی ایک بڑی وجہ پاکستانی فقیروں کی بھرمار ہے۔"پاکستان میں دو کروڑ سے زائد مانگنے والے موجود ہیں، ہم سیالکوٹ سے انہیں دو مرتبہ ہٹانے کی کوشش کر چکے ہیں مگر یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔"انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب میں بھی چھ ہزار پاکستانی وزیر ویزہ لے کر مانگنے گئے ہوئے ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو متاثر کر رہے ہیں۔
معاشی بحران اور سابق حکومت پر تنقید:
وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے قومی قیادت نے بروقت فیصلے کیے۔"عدم اعتماد کے بعد جب ہماری حکومت آئی تو وزارت خزانہ نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک کوارٹر کے لیے بھی پیسے نہیں۔"انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ قیادت نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا اور اب ملک چوتھی اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے۔
ایکسپورٹ کو قومی ایمرجنسی قرار دینے کا مشورہ:
خواجہ آصف نے کہا کہ ملکی ایکسپورٹ کو قومی ایمرجنسی کا درجہ دے کر پیداواری شعبے کو ایکسپورٹ کی طرف راغب کرنا ہوگا۔"آج اسٹاک ایکسچینج میں 533 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 70 کمپنیاں 10 ہزار ڈالر سے زائد پر کام کر رہی ہیں۔"
بجلی کے منصوبوں پر تحفظات:
انہوں نے سابقہ حکومتوں کے بجلی منصوبوں پر بھی تنقید کی:"2015 میں لگنے والے پاور پلانٹس میں ہمیں دھوکہ دیا گیا۔ ہر گرام پر چونا لگایا گیا، اور ان منصوبوں نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔"انہوں نے مزید کہا کہ 90 کی دہائی کے آئی پی پیز کنٹریکٹ جلد ختم ہوں گے، جبکہ مشرف دور کے آئی پی پیز معاہدے 2035 تک جاری رہیں گے۔
بزنس کمیونٹی کی تعریف:
آخر میں وزیر دفاع نے کاروباری طبقے کو ملک کا محسن قرار دیا اور کہا کہ وہ ایمانداری سے ملکی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کی کوششیں کر رہا ہے، اور عالمی سطح پر ساکھ بہتر بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔