کراچی: وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کسانوں کو سہولت دینے اور گندم اگانے والوں کی مدد کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے، تاہم سبسڈی دینے پر تنقید بھی ہوئی ہے۔
کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کسان پیکیج پر 55 ارب روپے سے زائد خرچ کرے گی، جس سے 4 لاکھ 4 ہزار 408 کسان مستفید ہوں گے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو کی پالیسی کسان، مزدور اور غریب کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے، اور ملک میں عوام کا ڈیٹا صرف پیپلز پارٹی کی حکومت میں تیار کیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے کہ کسانوں کو سہولت دی جائے، اور چیئرمین بلاول بھٹو نے انقلابی پالیسی کے تحت ملک بھر میں ریلیف کا اعلان کیا، جو صرف کاشتکار کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت آن لائن شکایت کا نظام بھی متعارف کرا رہی ہے، 21 لاکھ گھر بنائے جا رہے ہیں جن کی نگرانی عوام کر سکتے ہیں، اور پنک اسکوٹی اسکیم بھی جاری ہے۔ رجیل میمن نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سیلاب متاثرین کے حوالے سے سیاست نہیں کر رہی اور مشکل وقت میں پنجاب کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔