واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر سے تمام برانڈیڈ اور پیٹنٹ شدہ فارما مصنوعات پر درآمدی ٹیکس کی شرح 100 فیصد تک بڑھا دی جائے گی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ 100 فیصد ٹیرف ان فارما کمپنیز پر لاگو ہوگا جن کے پاس پہلے سے امریکا میں پلانٹ موجود نہ ہو یا پلانٹ پر تعمیر کا آغاز نہ ہوا ہو۔ اس اقدام کا مقصد امریکی گھریلو صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور غیر ملکی مصنوعات کے استعمال کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا بھارتی ادویات کا بڑا خریدار ہے، لیکن بھارت کی برآمدات کا زیادہ تر حصہ عام (generic) ادویات پر مشتمل ہے۔ ان پر اس نئے ٹیکس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے، کیونکہ ٹیرف زیادہ تر برانڈیڈ اور پیٹنٹ شدہ ادویات پر لاگو ہوگا۔
تاہم، اگر یہ ٹیکس پیٹنٹ شدہ ادویات پر براہِ راست لاگو ہوتا ہے تو یہ بھارتی دوا ساز صنعت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس خبر کے منظرعام پر آنے کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ پر منفی ردعمل آیا، جس کے نتیجے میں بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے شیئرز گر گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی تجارتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملکی صنعتوں کو مضبوط بنانا اور غیر ملکی مصنوعات پر انحصار کم کرنا ہے۔