جنیوا / واشنگٹن (ویب ڈیسک) : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 80 فیصد ٹیرف لگانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شرح ’’بالکل درست محسوس ہوتی ہے‘‘۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان اہم تجارتی مذاکرات جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں جاری ہیں، جن کا مقصد دونوں معاشی طاقتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ کو ختم کرنا ہے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک پیغام میں کہا:"چین کو اپنی مارکیٹ امریکا کے لیے کھولنی چاہیے! بند مارکیٹیں اب کام نہیں کرتیں! 80 فیصد ٹیرف بالکل درست ہے!"جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت چین پر بعض امریکی مصنوعات کے لیے ٹیرف کی شرح پہلے ہی 145 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
مذاکرات کی تفصیلات
جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چیف تجارتی مذاکرات کار جیمیسن گریر کر رہے ہیں، جب کہ چین کی طرف سے معاشی امور کے سربراہ ہی لیفنگ شرکت کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ چینی وفد میں ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار کی شمولیت بھی متوقع ہے، جو فینٹانائل منشیات کی اسمگلنگ جیسے حساس مسئلے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
چینی ردعمل
چینی وزارت خارجہ نے صدر ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "غیر منصفانہ اور دھونس پر مبنی اقتصادی حکمت عملی" قرار دیا ہے۔ چین پہلے ہی درجنوں امریکی مصنوعات پر 125 فیصد تک جوابی ٹیرف لگا چکا ہے اور نایاب معدنیات کی برآمدات پر بھی پابندیاں عائد کر چکا ہے، جو امریکی دفاعی اور ٹیکنالوجی صنعت کے لیے انتہائی اہم تصور کی جاتی ہیں۔
ممکنہ اثرات اور عالمی ردعمل
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں معمولی مندی دیکھنے میں آئی، جب کہ ڈالر کی قدر بھی دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور ہوئی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بلند ٹیرف اقدامات سے امریکی صارفین کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا اور ملکی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔
سوئس حکومت کی ثالثی
سوئٹزرلینڈ کے نائب صدر اور مذاکرات کے میزبان گائے پارملن نے کہا ہے کہ"یہ خود ایک کامیابی ہے کہ دونوں فریقین بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اگر کوئی مشترکہ روڈ میپ طے پا گیا تو کشیدگی میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔"انہوں نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات کے دوران فریقین ٹیرف کو عارضی طور پر معطل کرنے پر بھی غور کریں تاکہ باہمی اعتماد کی فضا پیدا کی جا سکے۔