بھارت: ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت کے تحت ایک بار پھر بھارت میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔
نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ حالیہ مذہبی تنازعات نے کانپور سے شروع ہونے والی آگ پورے ملک میں پھیلادی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق، کانپور میں 4 ستمبر کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں کئی معصوم مسلمان زخمی ہوئے ہیں۔ ان جھڑپوں کے دوران متعدد ریاستوں میں فسادات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں گجرات سمیت دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔پولیس کی جانب سے مسلمان مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، جس پر مقامی اور بین الاقوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں اظہار رائے اور مذہبی آزادی اب صرف ہندوتوا نظریے کے تابع ہو چکی ہے، اور اقلیتوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔سماجی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی ہندوتو پالیسی اور انتہا پسندی نے بھارت کو فاشزم کی ایک تجربہ گاہ بنا دیا ہے، جہاں مسلمانوں کے حقوق مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔