ہندوتوا انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی ایک اور مثال ہے۔
مہاراشٹر میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں ایک مسلمان شہری کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ اس نے پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ لگایا۔
واقعے کی تفصیلات:
مقامی میڈیا کے مطابق، مہاراشٹر میں ایک مسلمان شہری نے اپنے گھر میں بیٹھ کر ٹی وی پر پاک بھارت کرکٹ میچ دیکھا۔اس دوران، اس نے "پاکستان زندہ باد" کا نعرہ لگایا، جسے مقامی ہندو انتہا پسندوں نے بھارت مخالف نعرے بازی قرار دیا۔مشتعل ہندو انتہا پسندوں نے اس مسلمان شہری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کا گھر مسمار کر دیا۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مظالم:
یہ واقعہ کوئی نیا نہیں، بلکہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم کی ایک اور جھلک ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں انتہا پسند ہندوتوا نظریے کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کو نہ صرف معاشی، تعلیمی، اور سماجی سطح پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے، بلکہ ان کی مذہبی آزادی پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔
دیگر مسلم مخالف اقدامات:
شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC)
مسلمانوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر مذاہب کے افراد کو آسانی سے شہریت دی جا رہی ہے۔
لو جہاد کے نام پر ظلم
مسلم مردوں کو ہندو خواتین سے شادی کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور زبردستی ہندو مذہب قبول کروانے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
مساجد اور تاریخی مقامات پر حملے
بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت میں مزید کئی مساجد اور مسلم علاقوں کے نام بدلنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔
گؤ رکھشا کے نام پر تشدد
مسلمانوں پر گائے کے گوشت کی اسمگلنگ کے جھوٹے الزامات لگا کر ہندو انتہا پسند انہیں سرعام تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
عالمی برادری کی خاموشی:
بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
نتیجہ:
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں انتہا پسندی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندو انتہا پسندوں کو مسلمانوں پر ظلم کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اگر عالمی برادری اور مسلمان ممالک نے اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو بھارت میں مسلمانوں کے لیے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔