بھارت میں مسلمان عورت پر ہندو انتہا پسندوں کا سرعام ظلم: انسانیت شرمندہ

بھارت میں مسلمان عورت پر ہندو انتہا پسندوں کا سرعام ظلم: انسانیت شرمندہ

نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ایک مسلمان عورت پر سرعام اجتماعی ظلم کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انتہا پسند ہندو ایک نہتی مسلمان خاتون پر کتا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں خاتون کو کتے کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ویڈیو میں خوفناک منظر
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندو ایک مسلمان خاتون کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور کتے کو اس پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے۔ نہتی مسلمان خاتون کتوں کے حملوں سے بچنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن کوئی بھی شخص اس کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھا۔ ویڈیو میں واضح طور پر یہ دکھایا گیا ہے کہ انتہا پسند ہندو صرف تماشا دیکھتے رہے اور خاتون کی تکلیف پر بے حسی کا مظاہرہ کیا۔

بی جے پی حکومت کی خاموشی
ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ بھارت میں بی جے پی حکومت کی سرپرستی میں وقوع پذیر ہوا، جہاں انتہا پسند گروپوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد میں ملوث ہیں۔ مودی حکومت کی خاموشی نے انتہا پسندوں کے حوصلے کو بڑھا دیا ہے، جس کا فائدہ وہ غیر انسانی سلوک کرنے میں اٹھا رہے ہیں۔

مذہبی اسکالرز کی رائے
مذہبی اسکالرز کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں انتہا پسند ہندوؤں کی جنونی ذہنیت اور مسلمان دشمنی کی ایک واضح مثال سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مومن مردوں اور عورتوں کی عزت کے بارے میں واضح احکامات دیے ہیں۔ ایک اسکالر نے کہا:"اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مومن مردوں اور خواتین کو تکلیف دینے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔"
بھارت میں اقلیتی ظلم کا شکار
اس سانحے نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ظلم و تشدد کا ایک اور بدترین پہلو ظاہر کیا ہے، اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتی طبقہ اپنے حقوق کے لیے انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جہاں ظالموں کو روکنے والا کوئی نہیں۔