تہران: ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا ہے کہ وزارتِ انٹیلی جنس نے اسرائیل کے حساس جوہری منصوبوں اور سائنسدانوں سے متعلق خفیہ معلومات اور دستاویزات حاصل کرلی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن رواں سال جون میں مکمل کیا گیا، جس میں لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز قبضے میں لی گئیں۔ یہ مواد محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد اب منظر عام پر لایا گیا ہے۔ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب نے کہا کہ ان دستاویزات میں اسرائیل کے جاری اور پرانے ایٹمی منصوبے، امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ تعاون، اور جوہری ہتھیاروں کے ڈھانچے سے متعلق تفصیلی معلومات شامل ہیں۔ان کے مطابق 189 اسرائیلی جوہری ماہرین اور سائنسدانوں کی شناخت کی جا چکی ہے، جبکہ ان کے اداروں، کمپنیوں اور غیر ملکی ساتھیوں کے پتے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزارتِ انٹیلی جنس نے ان تنصیبات اور ماہرین کی ویڈیوز بھی نشر کی ہیں۔ مزید الزام لگایا گیا ہے کہ کئی اسرائیلی شہری مالی فائدے یا حکومت سے ناراضگی کی وجہ سے ایران کے ساتھ تعاون کرتے رہے۔یہ دعویٰ خطے میں اسٹریٹیجک کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس پر تبصرے جاری ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں آیا۔