ایران نے اسرائیل کے حساس جوہری منصوبوں کی خفیہ معلومات منظرعام پر لے آئیں

ایران نے اسرائیل کے حساس جوہری منصوبوں کی خفیہ معلومات منظرعام پر لے آئیں

ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے حساس اور اسٹریٹیجک جوہری منصوبوں اور سائنسدانوں سے متعلق خفیہ معلومات اور دستاویزات حاصل کرلی ہیں۔

ایرانی وزیرِ انٹیلی جنس اسماعیل خطیب نے بدھ کو ایک پروگرام میں بتایا کہ ایرانی انٹیلی جنس فورسز نے اسرائیلی جوہری تنصیبات، منصوبوں اور سائنسدانوں سے متعلق حساس اور اسٹریٹیجک دستاویزات جون 2025 میں حاصل کی تھیں۔ان دستاویزات میں لاکھوں صفحات، تصاویر اور ویڈیوز شامل ہیں، جن میں اسرائیل کے سابقہ اور موجودہ ایٹمی ہتھیاروں کے منصوبے، ہتھیاروں کی اپ گریڈیشن، ری پروسیسنگ کے منصوبے، امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ مشترکہ پروگرام، اور ایٹمی منصوبوں کے ذمہ داران کی تفصیلات موجود ہیں۔

خطیب کے مطابق ان دستاویزات میں اسرائیلی، امریکی اور یورپی محققین اور سائنسدانوں کی فہرست بھی شامل ہے جو اسرائیل کے غیر انسانی ہتھیاروں پر کام کر رہے ہیں۔پروگرام میں وزارتِ انٹیلی جنس نے اسرائیلی جوہری تنصیبات اور ماہرین کی ویڈیوز بھی نشر کیں، اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کی فوٹیجز بھی دکھائی گئیں، جنہیں ایران اپنے خلاف اقدامات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔اس کامیاب کارروائی کو ایرانی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں کے امتزاج کا نتیجہ قرار دیا گیا، اور اسے اس وقت تک منظر عام پر نہیں لایا گیا جب تک تمام مواد محفوظ مقامات پر منتقل نہ ہو گیا۔