اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰ: ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل کے حملے کا اثر

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰ: ایران کے جوہری پروگرام پر اسرائیل کے حملے کا اثر

ویب ڈیسک:اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے ایران پر 27 اکتوبر کو کیے گئے حملوں سے ایران کے جوہری پروگرام کے ایک حصے کو بھی نقصان پہنچا۔

 نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اس رات کے حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کا ایک خاص جزو تباہ ہو گیا تھا، تاہم اس دعوے کے حوالے سے انہوں نے واضح ثبوت فراہم نہیں کیے۔ نیتن یاہو نے اپنی اس بات کو اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیست میں تقریر کے دوران کہا اور اس دعوے کو "یہ کوئی راز نہیں ہے، یہ شائع ہو چکا ہے" جیسے الفاظ کے ساتھ پیش کیا، جسے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔قبل ازیں اسرائیلی حکام نے ایران کی بیس سے زیادہ فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ ان حملوں سے ایران کی ایئر ڈیفنس اور میزائل بنانے کی فیکٹریوں کو نقصان پہنچا تھا اور اس کی حملے کرنے کی صلاحیت کم ہوئی تھی۔ نیتن یاہو نے تاہم اس میں مزید کہا کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے بنانے کا راستہ ابھی تک روکا نہیں جا سکا ہے، اور اسرائیل نے ایران کی جوہری سرگرمیوں میں تاخیر ضرور کی ہے، لیکن ایران کے جوہری پروگرام کی ترقی رک نہیں سکی۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایران پر اسرائیل کے حملے کے دوران روس کی فراہم کردہ S-300 میزائل دفاعی بیٹریوں میں سے ایک کو تباہ کر دیا گیا تھا، اور مزید بیٹریوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کی بیلسٹک میزائل کی پیداوار اور ٹھوس ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا، جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں استعمال ہوتے ہیں۔نیتن یاہو نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل کے اکتوبر کے حملے میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کی ایک تحقیقاتی تنصیب کو بھی تباہ کیا گیا تھا، جس کا ذکر ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا تھا۔یہ دعویٰ اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کیے گئے مسلسل اقدامات کا حصہ ہے، جس کے تحت اسرائیل نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔