ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹک ٹاکرز پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد اُن افراد کو ٹارگٹ کرنا ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی عالی شان زندگی، مہنگی گاڑیاں، بنگلے، برانڈڈ کپڑے اور زیورات کی نمائش کرتے ہیں، تاکہ ان کی آمدنی اور اخراجات کا تقابل ان کے ٹیکس ریٹرنز کے ساتھ کیا جا سکے۔ریونیو اتھارٹی نے حال ہی میں ایک لاکھ ایسے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شاہانہ طرز زندگی دکھاتے ہیں۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹرز اور انفلوئنسرز پاکستان کے لیے ممکنہ ٹیکس ریونیو کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔ اجلاس کے دوران سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ سب سے زیادہ ٹیکس پنجاب سے جمع ہونے کا امکان ہے کیونکہ وہاں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
ایف بی آر کے آڈٹ پلان کے مطابق گزشتہ سال کے ٹیکس ریٹرنز کا موجودہ سال کے ساتھ تقابل کیا جائے گا تاکہ آمدن اور اخراجات میں بے ضابطگیوں کو واضح کیا جا سکے۔ جو افراد درست اور بروقت ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں گے، وہ اس کارروائی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ماہرین کے مطابق ایف بی آر کا یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو باضابطہ بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے اور یہ نظام کو مزید منصفانہ بنانے کی طرف ایک قدم ہے تاکہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی قومی معیشت میں اپنا ٹیکس حصہ ادا کریں۔