دریاؤں کے سیلاب سے پنجاب و سندھ کے متعدد علاقے زیرِ آب

دریاؤں کے سیلاب سے پنجاب و سندھ کے متعدد علاقے زیرِ آب

دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے جلال پور پیر والا شہر سمیت درجنوں بستیوں کو متاثر کیا ہے، جہاں اب بھی پانی موجود ہے۔ نوراجہ بھٹہ کے مقام پر شگاف پُر کرنے کا کام جاری ہے۔

موٹر وے پولیس کے مطابق ایم-5 موٹر وے سیلابی پانی کے باعث مسلسل 13ویں روز بھی ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک بند ہے اور بحالی کے لیے پانی اترنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

پاکپتن اور دیگر اضلاع کی صورتحال
پاکپتن: دریائے ستلج کے کٹاؤ سے گاؤں سوڈا مکمل طور پر دریا بُرد ہوگیا جبکہ چک باقر کے 50 گھر کٹاؤ کی زد میں ہیں۔
عارف والا: سیلاب زدہ علاقوں میں نظامِ زندگی مفلوج، دیہات کا زمینی رابطہ بحال نہ ہوسکا، سڑکیں بہہ جانے سے آمدورفت متاثر۔
احمد پور سیال: سیلابی پانی سے تعفن اور مچھروں کی افزائش نے بیماریوں کا خدشہ بڑھا دیا، متعدد مکانات تباہ۔
سندھ کی صورتحال
کوٹری بیراج: دریائے سندھ میں درمیانے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار۔
ٹھٹہ و سجاول: پانی کی سطح بڑھنے سے کچے کے 10 سے زائد دیہات زیرِ آب، کئی ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی متاثر، مکین حفاظتی بند پر پناہ لینے پر مجبور۔
مٹیاری: کچے کے علاقے زیرِ آب، مکین کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کر رہے ہیں، سعید آباد کے علاقوں میں فصلیں تباہ۔