سماجی کارکن سونم وانگچک اشتعال انگیز بیانات سے بدامنی کی صورتحال پیدا ہوئی ، سیاسی مقاصد کیلئے عوام کو اکسایا گیا
تمام معاملے کو انتہائی حساسیت کے ساتھ نمٹا جائے اور احتجاج کی وجوہات کا حقیقی جائزہ لیا جائے،اپوزیشن کا مطالبہ
سرینگر(آئی این پی ) مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں پرتشدد احتجاج کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا جبکہ پولیس نے 50 افراد کو گرفتار کرلیا ۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق حکومت نے سماجی کارکن سونم وانگچک پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے اشتعال انگیز بیانات کے باعث بدامنی کی صورتحال پیدا ہوئی جبکہ سیاسی مقاصد کے لیے عوام کو اکسایا گیا۔گزشتہ روز بدھ کو سینکڑوں مظاہرین ریاستی حیثیت کی بحالی اور آئینی تحفظ کے لیے لداخ کے مرکزی شہر لیہہ شہر میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اس دوران مشتعل مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چار افراد ہلاک جبکہ 80 زخمی ہوئے ہیں جن میں 40 کے قریب پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔گزشتہ دو ہفتوں سے ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم سماجی کارکن سونم وانگچوک نے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے لیے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی