آزاد کشمیر، عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا میں مذاکرات بے نتیجہ ختم

29 ستمبر کی  احتجاج کی کال برقرار، مطالبات مان لیے تو وہ نئی لسٹ لے کر آگئے
ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ انہوں نے مذاکرات کو کیوں ناکام کردیا، وفاقی وزیرامیرمقام
مظفر آباد(آئی این پی ) آزاد جموں کشمیر  جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے درمیان  ہونے والے طویل مذاکرات بے نتیجہ ختم  ہوگئے۔وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر  دو وفاقی وزرا طارق فضل چوہدری اور انجینئر امیر مقام  آزاد جموں و کشمیر کے دارلحکومت  مظفر آباد  پہنچے اور   مذاکرات میں ثالثی کی کوشش کی۔  بدھ کو  جمعرا ت کی درمیانی رات  طویل مذاکرات کا دور چلا جو 13گھنٹے تک جاری رہا۔مذاکرات میں آزادکشمیر حکومت کے دو وزرا فیصل ممتاز راٹھور اور دیوان  چکتائی بھی شریک ہوئے جبکہ تین ڈویژنز سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے شرک کی ۔حکومتی ذرائع کے مطابقمذاکرات کے دوران جب بھی سی معاہدے کی صورت بنتی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے نئے مطالبات پیش کر دئیے جاتے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی ضد اور غیرلچکدار رویہ مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا اور مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے مطالبات بدلتے رہے