پنجاب میں سیلاب سے نقصانات کے سروے کیلئے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

 پنجاب کے دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی آئی ہے:ڈی جی پی ڈی ایم اے
سیلاب کی تباہ کاریاں،پنجاب میں  راستے بحال نہ ہونے سے متاثرین کو گھر واپسی میں مشکلات، جگہ جگہ پڑے شگاف بند نہ کئے جاسکے
لاہور(آئی این پی )ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے  پنجاب کے دریائوں میں پانی کا بہا ئو نارمل  ہے جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی آئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔دوسری جانب  پنجاب میں تاریخ کے بدترین سیلاب سے شہری سنبھل نہیں سکے، کئی علاقوں میں اب تک پانی کھڑا ہے، پانی کھڑا ہونے سے بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے، کئی علاقوں میں راستے بحال نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے متاثرین کو گھروں کی طرف واپسی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔سیلاب متاثرین کے لیے مویشیوں کا چارہ حاصل کرنا بھی مشکل بن گیا، مکانات منہدم ہونے کے باعث کئی متاثرین ٹینٹ نہ ملنے پر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں، متاثرین نے خوراک ، راشن کی فراہمی اور جانوروں کے لئے ونڈا، چارہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔دریں اثناپنجاب حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے صوبے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے سروے کے لئے  پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔وفاقی حکومت نے فوج کی تعیناتی کے باضابطہ احکامات پنجاب حکومت کو ارسال کر دئیے ہیں، فوج کی خدمات صوبے کے 27 اضلاع میں نقصانات کے سروے کیلئے حاصل کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق فوج کی تعیناتی سیلاب کے نقصانات کے تخمینے کیلئے  مشترکہ سروے ٹیم کا حصہ ہوگی، اس سروے میں انسانی جانوں، املاک، فصلوں، مویشیوں اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی تعین کیا جائے گا۔