اگلی بار جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا:ایران کا دوٹوک انتباہ

اگلی بار جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا:ایران کا دوٹوک انتباہ

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو تہران اس بار پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور بھرپور جواب دے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفیروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمنوں نے دوبارہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ملک اپنی دفاعی کارروائی پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ کرے گا۔عباس عراقچی نے کہا کہ نہ فوجی طاقت کے ذریعے مسائل کا مستقل حل نکالا جاسکتا ہے اور نہ ہی نئی پابندیاں تنازع کو ختم کرسکتی ہیں۔ ان کے مطابق پائیدار حل انصاف، برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کی گئی تجویز پر امریکی ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔کاظم غریب آبادی کے مطابق اگر ایران اس معاملے پر کوئی حتمی مؤقف یا جواب تیار کرتا ہے تو اسے مناسب سفارتی ذرائع کے ذریعے متعلقہ فریق تک پہنچایا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر کے آخر میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے کی پیشکش مسترد کردی تھی۔