ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت (AI) کے بانیوں میں شمار کیے جانے والے معروف کمپیوٹر سائنس دان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی پر سنجیدگی سے کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ مستقبل میں انسانی نسل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ رفتار سے ترقی کرتی اے آئی کے باعث 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کی جگہ قابض ہو جائے۔
جیفری ہنٹن کون ہیں؟
جیفری ہنٹن کو مصنوعی ذہانت کا گاڈ فادر کہا جاتا ہے۔وہ گوگل کے سابق نائب صدر رہ چکے ہیں۔انہیں 2018ء میں کمپیوٹر سائنس کے لیے دیا جانے والا ٹننگ ایوارڈ ملا، جو کمپیوٹنگ کا نوبیل پرائز تصور کیا جاتا ہے۔
ہنٹن کا انتباہ — دوہرا خطرہ:
ہنٹن نے اپنی حالیہ گفتگو میں کہا:“میں اکثر کہتا ہوں کہ 10 سے 20 فیصد امکان ہے کہ AI ہمیں ختم کر دے۔ یہ ایک دل کی بات ہے، ایک امکانی خطرہ جس پر دنیا کو فوراً توجہ دینی چاہیے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ AI سے دوہری نوعیت کے خطرات لاحق ہیں:
خودمختار نظاموں کا قابو سے باہر ہو جانا
غلط معلومات، جھوٹی ویڈیوز اور آڈیوز کا پھیلاؤ
جعلی مواد کا پھیلاؤ — معاشرتی خطرہ:
ہنٹن نے کہا کہ:جعلی ویڈیوز، آڈیوز اور تصاویر اب آسانی سے بنائی جا سکتی ہیں۔لب و لہجہ اور آواز کی نقالی سے دھوکہ دہی کے جرائم بڑھ رہے ہیں۔AI کو استعمال کر کے سوشل انجینئرنگ، فراڈ، اور جعلسازی جیسے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی برادری کے لیے پیغام:
“ہم ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اگر دنیا بھر کے ذہین محققین وقت پر اقدامات کریں تو شاید ہم ایسا طریقہ ایجاد کر سکیں جس سے AI کو محفوظ طریقے سے قابو میں رکھا جا سکے۔”
ہنٹن نے حکومتوں، کمپنیوں اور محققین سے اپیل کی ہے کہ وہ:ریگولیشن اور اخلاقی حدود قائم کریں۔AI کی ترقی پر نگرانی اور شفافیت یقینی بنائیں۔
خلاصہ:
جیفری ہنٹن نے ایک بار پھر دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی کے خطرات کو نظر انداز کیا گیا تو مستقبل میں یہ انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے۔ اب فیصلہ عالمی برادری کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس تیزرفتار انقلاب کو قابو میں رکھ سکتی ہے یا نہیں۔