اقوام متحدہ کی طرف سے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر فوری تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی طرف سے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر فوری تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے لبنانی فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کی جنگ بندی کے باوجود جاری رہنے والی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک سال سے جاری جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے بدستور جاری ہیں، جن میں سے کئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خدشہ ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مطالبہ کیا ہے کہ عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ سمیت تمام حملوں کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ترجمان ثمین الخیطانی نے بتایا کہ حالیہ حملوں میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 11 بچے شامل تھے، اور تمام ہلاکتیں عام شہریوں کی تھیں، جس سے اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے بعد سے اب تک 330 سے زیادہ افراد ہلاک اور 945 زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان ہلاک ہونے والوں میں 127 عام شہری شامل ہیں۔

حملوں کے نتیجے میں لبنان کے شہری انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، اور جنوبی لبنان کے ہزاروں لوگ اپنی گھروں کو واپس جانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں سے اب بھی 64 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہیں۔مزید برآں، اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے لبنان کی سرحد کے قریب دیوار کی تعمیر شروع کر دی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 4 ہزار مربع میٹر علاقہ مقامی آبادی سے باہر ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقوں سے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد کرنے اور شہریوں کی بحالی کے عمل میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔