نئے منصوبے کے مطابق وہ تمام سرکاری اسکول جن میں طلبہ کی تعداد 100 یا اس سے کم ہے، نجی اداروں کو دے دیے جائیں گے
لاہور (زیڈ این این) پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے دسمبر 2025 میں اسکولوں کی نجکاری کے تیسرے مرحلے کا آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 4,500 پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول نجی آپریٹرز کو منتقل کیے جائیں گے۔ اس سے قبل صوبے بھر کے 12,500 سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔نئے منصوبے کے مطابق پنجاب میں وہ تمام سرکاری اسکول جن میں طلبہ کی تعداد 100 یا اس سے کم ہے، نجی اداروں کو دے دیے جائیں گے۔ متعلقہ حکام کو تازہ ترین فہرستیں فوری طور پر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس دوران ان اسکولوں میں تعینات اساتذہ کو قریبی اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا یا سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا۔ اس بار پہلی مرتبہ ہائی اسکولز بھی نجکاری کے عمل میں شامل کیے گئے ہیں۔دوسری جانب، اس فیصلے پر مختلف اساتذہ تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ صدر ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن بشارت اقبال راجہ ، مرکزی سیکرٹری پنجاب SES ٹیچرز یونین محمد شفیق بھالووالیہ اور سیکرٹری جنرل پنجاب ٹیچرز یونین رانا لیاقت کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں اور فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اساتذہ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نجکاری اور اساتذہ کی ریشنلائزیشن تعلیم کے شعبے کو شدید متاثر کرے گی۔ سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کرنے سے فیسوں میں اضافہ ہوگا اور پہلے سے کمزور سرکاری تعلیمی نظام مزید بگڑ جائے گا۔