عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کیلئے تیسرے مرحلے میں سب سے زیادہ بولی لگائی‘ لکی سیمنٹ کنسورشیم 134 ارب کی بولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا

پی آئی اے کی 135ارب میں نیلامی عارف حبیب کنسورشیم نے 75 فیصد شیئرزخرید لئے
پاکستان کی جیت ہوئی ، عملے کو اعتماد دیں گے ،ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ  ملے گا،مزید لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے،پ طیاروں کی تعداد 38 کریں گے  پھر  65تک لے جائیں گے:عارف حبیب 
قومی ائیرلائن کی نجکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، حکومت کا مقصد قومی ائیرلائن کوبیچنا نہیں بلکہ  اسے پائوں پر کھڑا کرنا ہے‘ائیرلائن کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئیگی:محمد علی مشیرنجکاری کمیشن  
اسلام آباد (آئی این پی)عارف  حبیب کنسورشیم  نے قومی ائیر لائن  پی آئی اے کو  135 ارب   روپے میں خرید لیا ہے۔عارف  حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی۔لکی کنسورشیم 134 ارب  روپے کی بولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے)کی خریداری کے لیے لکی گروپ اور عارف حبیب گروپ کے درمیان اوپن بڈنگ ہوئی ہے۔ اس دوران عارف حبیب گروپ سمیت چار کمپنیوں کے کنسورشیئم کی جانب سے سب سے زیادہ 121 ارب روپے کی بولی لگائی گئی ہے۔اس نجکاری کے لیے عارف حبیب، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی سکول اور لیک سٹی ہولڈنگز پر مشتمل چار کمپنیوں کے کنسورشیئم کے علاوہ پاکستان کی نجی فضائی کمپنی ایئر بلیو اور لکی گروپ کے کنسورشیم  نے بھی بولیاں دی تھیں۔منگل کو براہ راست نشر کی گئی تقریب میں پہلی بولی جو کھولی گئی وہ لکی گروپ کی جانب سے دی گئی تھی۔ اس گروپ نے پی آئی اے خریدنے کے لیے 101.5 ارب روپے کی بولی دی۔اس کے علاوہ ایئر بلیو نے 26.5 ارب روپے کی بولی جمع کرائی ہے  جبکہ تیسری اور آخری بولی عارف حبیب گروپ اور ان کی ساتھی کمپنیوں کی تھی جو سب سے زیادہ 115 ارب روپے کی رہی۔حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی فروخت کے لیے کم سے کم قیمت 100 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔دوسرے مرحلے میں عارف حبیب گروپ اور لکی گروپ کے درمیان اوپن بڈنگ ہوئی۔ اس مرحلے میں بولی کا آغاز 115 ارب روپے سے ہوا اور کم سے کم 25 کروڑ روپے کا اضافہ کیا جا رہا تھا۔ اس دوران بھی سب سے زیادہ بولی عارف حبیب کنسورشئیم نے 121 ارب روپے کی لگائی۔ اس کے بعد لکی گروپ نے 30 منٹ وقفے کی درخواست کی۔عارف  حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی۔لکی کنسورشیم 134 ارب  روپے کی بولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔اس سے قبل مشیر نجکاری محمد علی نے بتایا تھا کہ اگر بولی دہندگان کی جانب سے ریزرو پرائس سے زیادہ بولی دی گئی تو اوپن بڈنگ کا عمل ہو گا اور سب سے زیادہ بولی دینے والا گروپ کامیاب تصور کیا جائے گا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مشیر نجکاری اور انکی ٹیم کو کامیاب بولی پراسیس پر مبارکباد دیتا ہوں، آج بھی یہی کہوں گا جو بھی جیتے گا جیت پاکستان کی ہوگی یہی جب ایک اور ادارے میں تھا تو کہا کرتا تھا، بولی میں حصہ لینے والے تمام مانے  ہوئے کاروباری لوگ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ جو بھی کامیاب بولی دہندہ ہوگا وہ اس قومی ایئر لائن کو سٹیٹ آف دی آرٹ بنائے گا۔عارف حبیب  گروپ کے  چیئرمین عارف حبیب نے کہا ہے کہ  آج پاکستان کی جیت ہوئی  ،پی آئی اے نے اچھے دن دیکھے ہیں ، عملے کو اعتماد دیں گے ،ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ  ملے گا،مزید لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے،پہلے مرحلے میں طیاروں کی تعداد 38 کریں گے  پھر 65تک لے جائیں گے۔خیال رہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کی یہ دوسری کوشش ہے۔مشیر نجکاری کمیشن محمد علی  نے کہا کہ   قومی ائیرلائن کی نجکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، حکومت کا مقصد قومی ائیرلائن کوبیچنا نہیں بلکہ  اسے پائوں پر کھڑا کرنا ہے، قومی ائیرلائن کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئیگی۔مشیر  نجکاری کمیشن کے مطابق حکومت چاہتی ہے قومی ائیرلائن ماضی کی طرح بہتر ہو، قومی ایئرلائن کے 75 فیصدشیئرزکی آج بولی ہوگی، بولی سے حاصل رقم کا 92.5 فیصد حصہ قومی ائیر لائن کی بہتری پر خرچ ہوگا۔انہوں نے  کہا کہ دو تہائی پیمنٹ شروع میں اور ایک تہائی پیمنٹ بعد میں کی جا سکے  گی، ہم نے بڈرز کو بولی کے بعد دو پارٹیز کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔