این ایف سی بلاکیج ، نئے صوبے کی صورت میں بائی پاس ضروری ہے،حیدر عباس رضوی

  ماسٹر پلان کے برعکس  تمام نوٹیفکیشنز، محکمے، اضلاع، اور حلقہ بندیاں سب ختم ہو جائیں گی
 کراچی(آئی این پی )ایم کیو ایم  پاکستان کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ اس وقت این ایف سی بلاکیج ہے، جس کیلئے نئے صوبے کی صورت میں بائی پاس ضروری ہے۔ ایک انٹرویو میں   حیدر عباس رضوی نے کہا کہ 2007 کے ماسٹر پلان کو خود مراد علی شاہ نے ستمبر 2018 میں نوٹیفائی کیا تھا لیکن سائیں سرکار نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا، اور پھر اچانک وزرا کہتے دکھائی دئیے کہ کراچی کا کوئی ماسٹر پلان ہی نہیں ہے۔انھوں نے کہا سندھ کی کونسل سے منظور اور مراد علی شاہ کا دستخط شدہ ماسٹر پلان موجود تھا، ، سیاست دان ہی کہتے ہیں کہ آئین پاکستان کوئی آسمانی صحیفہ تو نہیں، اسی طرح کوئی ترمیم بھی مقدس نہیں تو کسی ترمیم میں بھی بہتری یا رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔حیدر عباس رضوی نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سائیں سرکار کو دو دہائیاں لگی اس شہر کو برباد کرنے میں، 1971 سے لے کر آج تک 55 سالوں میں پیپلز پارٹی سے کوئی ترقی یا قابل ذکر کام نہ ہو سکا، اور منصوبہ بندی کے ساتھ کراچی کو موہن جو دڑو اور مسائلستان بنایا گیا، پچھلے 15 سالوں میں کراچی کے 3 کھرب 400 ارب غصب کیے گئے، اس لئے   سب مسائل کا حل پورے ملک میں فی الفور نئے صوبوں کا قیام ہی ہے۔