دہشتگرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے ‘خودکش حملہ آور نے ہدف تک پہنچنے میں ناکامی پر مضافاتی علاقے میں پہلی دستیاب جگہ کو نشانہ بنایا، جس سے بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا
حملے کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر 4 اہم ملزم گرفتار کئے گئے‘یہ خودکش حملے میں کسی نہ کسی طرح شامل تھے، یہ بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشتگردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی: پریس کانفرنس
اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے کی تھی،دہشتگرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں ناکام رہے، حملے کی تمام منصوبہ بندی افغانستان سے ہوئی۔ منگل اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا حملے کے فورا بعد انٹیلی جنس بیورو اور کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، سی ٹی ڈی نے ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا۔ان کا کہنا تھا ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا، دہشتگردوں نے اسلام آباد کے مضافات کو ٹارگٹ کیا، حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر 4 ملزمان گرفتار کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور افغانستان کا رہائشی ہے، پکڑے گئے دہشتگرد اس خودکش حملے میں کسی نہ کسی طرح شامل تھے، یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشتگردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے لیکن اس میں ناکام رہے، دہشتگرد اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے، حملے کی تمام منصوبہ بندی افغانستان سے ہوئی، ساجد اللہ عرف شینا مرکزی ملزم ہے، یہ تحریک طالبان کا رکن رہا ہے، عطا تارڑ کی پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی بیان بھی دکھایا گیا۔