پکتیکا میں طالبان کا اسلحہ ڈپو تباہ ‘ فوجی تنصیبات پر مسلسل حملے( پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا:عطاء تارڑ)

جنوبی وزیرستان میں آپریشن غضب للحق جاری، فتنہ الخوارج بھاگنے پر مجبور‘پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ  افغان طالبان کی  پوسٹ کو نشانہ بنایا
پاکستان صرف اور صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے معاون نظام کو ہدف بنا رہا ہے،افغان وزارت دفاع کے پاکستان کیخلاف جنگ میں کامیابیوں کے دعوے درست نہیں:وزیراطلاعات
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن) جنوبی وزیرستان میں آپریشن غضب للحق جاری ہے جس میں پاک فوج نے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ افغان طالبان کی  پوسٹ کو نشانہ بنایا۔تفصیلات کے مطابق افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی موثر جوابی کاروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان سے ملحقہ  افغان طالبان کی  پوسٹ کو نشانہ بنایا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ افغان طالبان کی اس  پوسٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔  پاکستانی افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن "غضب للحق" کے دوران پکتیکا کے شاہین بیس پر کامیاب زمینی اور فضائی کارروائی کی ہے۔ اس کارروائی میں، پاکستانی افواج نے پکتیکا میں واقع افغان طالبان کے اہم امیونیشن ڈپو کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس سے دشمن کی جنگی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا۔پاک افغان سرحد کے قریب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا، پاکستان صرف اور صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے معاون نظام کو ہدف بنا رہا ہے،افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے درست نہیں اور محض پراپیگنڈا ہیں۔غیر ملکی جریدوں سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہا ہے، پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا، پاکستان صرف اور صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے معاون نظام کو ہدف بنا رہا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے خیالی اعداد و شمار کسی سنجیدہ تبصرے کے بھی قابل نہیں ہیں، افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوے درست نہیں اور محض پراپیگنڈا ہیں۔