کالج پر حملے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے دیا، دہشت گرد کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل کر رہے تھے
اسلام آباد حملے کے سہولت کار کا تعلق باجوڑ سے نکلا، ایک ماہ سے راولپنڈی میں رہائش پذیر تھا، پولیس نے دھماکے کی تحقیقات کیلئے 5 افراد کو حراست میں لے لیا
پشاور‘اسلام آباد(آئی این پی)سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کیڈٹ کالج وانا حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد افغان شہری تھے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ حملے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے دیا، دہشت گرد پوری کارروائی کے دوران افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل کر رہے تھے۔ذرائع نے کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی زاہد نے کی، خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمے داری جیش الہند کے نام سے قبول کی‘دریں اثنائسلام آباد کچہری کے باہرخودکش حملے کے سہولت کار اور ہینڈلر کو گرفتار کرلیا گیا ۔ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے جبکہ سہولت کار کا تعلق باجوڑ سے نکلا۔ حملے کا سہولت کار گزشتہ ایک ماہ سے راولپنڈی میں رہائش پذیر تھا جسے راولپنڈی سے اور ہینڈلر کو خیبرپختونخوا سے گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کے سہولت کار کی نشاندہی سرچ آپریشن کے دوران ہوئی، گزشتہ صبح گرفتار افراد کی نشاندہی پر سہولت کار کو گرفتار کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہینڈلر اور سہولت کار دہشتگرد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور سکیورٹی اداروں نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خودکش دھماکے سے قبل سہولت کار اورخودکش حملہ آور نے متعدد بارجوڈیشل کمپلیکس کا جائزہ لیا۔ دوسری جانب، پولیس نے بتایا کہ اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں 5 مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا