راولپنڈی: انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا 28 ستمبر کے مقدمے میں 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
یہ مقدمہ راولپنڈی میں 28 ستمبر کو احتجاج پر اکسانے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر عمران خان کے وکیل اور حکومتی پراسیکیوٹر نے دلائل دیے۔ پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عمران خان کا مزید 15 دن کا جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔بعد ازاں، عدالت نے عمران خان کو 6 دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے انہیں 2 دسمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ مقدمہ 28 ستمبر کو راولپنڈی میں ہونے والے احتجاج پر اکسانے کے حوالے سے درج کیا گیا تھا، اور اس سے قبل بھی عمران خان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا تھا۔ حالیہ گرفتاری توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت ملنے کے بعد 28 ستمبر کیس میں کی گئی ہے۔اس کیس میں عمران خان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، اور یہ مقدمہ ان کی سیاسی سرگرمیوں اور قانونی مسائل کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔