وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے بشریٰ بی بی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جان بوجھ کر فساد پھیلانے کے لیے آئی ہیں اور ان کا مقصد خون خرابہ ہے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی طرح وہ دوبارہ وہی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت ان کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔وزیرِ اطلاعات نے رینجرز کے شہید اہلکاروں کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان کا خون کس کے ہاتھوں پر ہے اور کہا کہ حکومت کسی کو بھی بیرون ملک وفد کے دورے کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری کے لیے آتا ہے، تبھی دھرنے کی یاد کیوں آتی ہے، اور ان لوگوں کا نظریہ ملک دشمن ہے۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے کوئی بھی مظاہرے میں شامل نہیں ہوا اور الزام لگایا کہ کرائے پر لوگوں کو مظاہروں کے لیے لایا گیا تھا۔ مظاہرین کے پکڑے جانے پر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں پیسے دیے گئے ہیں۔انہوں نے بشریٰ بی بی پر الزام عائد کیا کہ وہ غریب بچوں کو اپنے مفاد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں اور انہیں متنبہ کیا کہ اگر وہ باز نہ آئیں تو ریاست ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ ریاست کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں، اور بشریٰ بی بی کو واپس جانے کا مشورہ دیا۔