پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے اشاروں کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون اور انتظامی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بنگلہ دیش کے سینئر سول سروس افسران پر مشتمل وفد سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیشرفت کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان روابط، باہمی اعتماد اور تعمیری تعاون کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک تاریخی تعلقات، مشترکہ انتظامی ورثے اور ادارہ جاتی تجربات کے حامل ہیں جنہیں مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ملاقات میں گورننس کے نظام، انتظامی اصلاحات، ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری اور پیشہ ورانہ تربیت سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ سول سروسز کے درمیان روابط کو بڑھا کر بہتر حکومتی ڈھانچے اور پالیسی سازی میں مدد لی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے پاکستان اور بنگلہ دیش کی سول سروسز کے درمیان ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ پروگرام کو اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامز دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی روابط انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سول سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر سی ٹی پی سید شبیر اکبر زیدی نے وفد کو اکیڈمی کے تربیتی نظام، کورسز، مطالعاتی پروگرامز اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران “پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور” کے تحت جاری اقدامات کو بھی سراہا گیا۔بنگلہ دیشی وفد نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور اصلاحاتی اقدامات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور مستقبل میں تربیتی و ادارہ جاتی تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ روابط، تجربات کے تبادلے اور مستقبل میں تعاون کے نئے امکانات کے حوالے سے مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا۔