فیک نیوز اور ڈیپ فیک موجودہ دور کے بڑے چیلنجز ہیں، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کی لیبلنگ ضروری ہے: عطاء اللہ تارڑ

فیک نیوز اور ڈیپ فیک موجودہ دور کے بڑے چیلنجز ہیں، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کی لیبلنگ ضروری ہے: عطاء اللہ تارڑ

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ غلط معلومات اور فیک نیوز موجودہ دور کے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے اور عوام میں سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل خواندگی کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ طلبہ اور نوجوان آن لائن دستیاب معلومات کی حقیقت جانچنے اور غلط معلومات کی شناخت کرنے کے قابل ہو سکیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیے جانے والے مواد کی واضح لیبلنگ لازمی قرار دینا ہوگی، تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ کوئی تصویر، ویڈیو یا دیگر مواد حقیقی ہے یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مختلف چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ان مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کے شعبوں میں مسلسل کوششیں کرنا ہوں گی۔عطاء اللہ تارڑ نے نیشنل سائبر سیکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق ایسی کونسل کے ذریعے سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا کے حوالے سے آگاہی اور متعلقہ اقدامات کو مربوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات میں ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ سے متعلق امور پر کام کرے گا۔انہوں نے بچوں کو سوشل میڈیا کے غیر محفوظ استعمال سے بچانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آن لائن خطرات کی شناخت اور ان سے محفوظ رہنے کے طریقے سکھانا ہوں گے۔عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے کام شروع کر دیا ہے، جس سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو بھی معاونت ملے گی۔