اوٹاوا (غیر ملکی میڈیا):برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم اور ان کی اہلیہ ملکہ کمیلا حال ہی میں کینیڈا کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔
اس دورے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد کینیڈا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے تجویز دی تھی کہ "کینیڈا کو باضابطہ طور پر امریکا کی ایک ریاست بن جانا چاہیے"۔یاد رہے کہ شاہ چارلس سوم کینیڈا کے آئینی سربراہ بھی ہیں، کیوں کہ کینیڈا برطانوی دولتِ مشترکہ (Commonwealth) کا حصہ ہے۔
کینیڈین وزیرِ اعظم کا ردعمل:
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے شاہ چارلس کے دورے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہ اپنے تخت سے ایک اہم خطاب کریں گے۔ اس خطاب میں وہ:
کینیڈا کی حکومتی ترجیحات،
موجودہ معاشی چیلنجز،
اور عالمی تجارتی تبدیلیوں پر روشنی ڈالیں گے۔
مارک کارنی نے مزید کہا کہ حالیہ تجارتی تبدیلیاں "دیوارِ برلن کے گرنے کے بعد کی سب سے بڑی عالمی تبدیلیاں ہیں"، اور کینیڈا کو ان سے نمٹنے کے لیے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔
شاہی تخت نشینی اور خطاب کی تاریخی اہمیت:
عمومی طور پر برطانوی شاہی خاندان کے افراد کینیڈا میں "تخت نشین ہو کر" عوامی خطاب نہیں کرتے، لیکن اس بار یہ ایک غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔آخری بار ایسا واقعہ 1977ء میں ہوا تھا، جب شاہ چارلس کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم نے کینیڈا میں تخت نشین ہو کر خطاب کیا تھا۔
تجزیہ:
یہ دورہ ایک مضبوط سفارتی پیغام ہے کہ کینیڈا، اپنی خودمختاری اور برطانوی آئینی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے، امریکا کے کسی بھی غیر سنجیدہ یا جارحانہ بیان کو مسترد کرتا ہے۔ شاہ چارلس کا کینیڈا میں تخت نشین ہو کر خطاب کرنا، اس یکجہتی اور علامتی حمایت کا اظہار ہے جو برطانیہ اپنے دولتِ مشترکہ ممالک کے لیے رکھتا ہے۔