برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا سرکاری دورے پر استقبال کیا۔
اس موقع پر شاہ چارلس کے خطاب کا ایک نمایاں پہلو صحیح مسلم کی ایک حدیث کا عربی متن پڑھ کر سنانا اور عمانی عوام کے حسنِ اخلاق کی تعریف کرنا تھا۔رپورٹ کے مطابق سلطان ہیثم بن طارق کا یہ دورہ تقریباً 44 سال بعد کسی عمانی سلطان کا برطانیہ کا پہلا سرکاری ریاستی دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تاریخی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
شاہ چارلس نے عمانی عوام کے حسنِ اخلاق کی تعریف کی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ چارلس سوم نے صحیح مسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیا، جس میں عمان کے لوگوں کے نرم مزاج اور اچھے برتاؤ کا ذکر ہے۔حدیث کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر لوگ عمان کے باشندوں کے پاس جاتے تو وہ انہیں نہ برا بھلا کہتے اور نہ مارتے۔ شاہ چارلس کی جانب سے حدیث کا عربی متن پڑھنے کے اس اقدام کو تقریب کا ایک قابلِ ذکر لمحہ قرار دیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے عمان کے کردار کو سراہا
شاہ چارلس سوم نے اپنے خطاب میں عمان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا، خصوصاً آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے عمان کے کردار کی تعریف کی۔عمان طویل عرصے سے خطے میں سفارتی رابطوں اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اس خطے میں امن اور بحری آمدورفت کی اہمیت عالمی سطح پر بھی تسلیم کی جاتی ہے۔
برطانیہ اور عمان کے تاریخی تعلقات
سلطان ہیثم بن طارق کے سرکاری دورے کو برطانیہ اور عمان کے دیرینہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارت کاری، تجارت، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں امن جیسے امور اہمیت رکھتے ہیں۔