ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے اسرائیل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ حماس غزہ میں آنے والی انسانی امداد کو لوٹ رہی ہے۔
ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی مک کین نے واضح کیا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔سنڈی مک کین نے کہا کہ حماس کا امدادی سامان پر کوئی قبضہ نہیں ہے بلکہ غزہ کے بھوکے عوام خود شدید فاقے اور مشکلات کے باعث امدادی ٹرکوں کی طرف بھاگ کر پہنچ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"جب ورلڈ فوڈ پروگرام کے ٹرک کسی علاقے میں پہنچتے ہیں تو وہاں کے لوگ بھوک اور فاقوں کی شدت کے باعث ہجوم کی شکل میں اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ اس کا حماس یا کسی اور گروہ سے کوئی تعلق نہیں۔"انہوں نے مزید کہا:"یہ الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لوگ شدید بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ ہم صرف انسانیت کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور امداد کا مقصد انسانی جانوں کو بچانا ہے۔"اس بیان کے ذریعے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس بات کو واضح کیا کہ امدادی سامان کی تقسیم میں شفافیت اور انسانی ہمدردی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
پیرس میں اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج
دوسری جانب، فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں ہزاروں افراد نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے پرامن طریقے سے "فلسطین آزاد کرو" اور "غزہ میں قتل عام بند کرو" جیسے نعرے بلند کیے۔شرکاء نے اسرائیل کے خلاف سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ مظاہرے میں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے حق میں بھی آواز بلند کی گئی۔پیرس کے علاوہ دنیا کے مختلف بڑے شہروں میں بھی اسرائیل کے خلاف احتجاج جاری ہے، جس میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے گروپس شریک ہیں۔