اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر ہوں گے اور وہ عید سے قبل رہا ہو جائیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں، پارٹی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم نے قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ احتجاج اور دھرنے بھی کیے، اور اب اسمبلی کے فورم پر بھی بات ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کارکنان کا سوال اٹھانا حق بجانب ہے، اور ہم ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ کوئی تصور نہیں کر سکتا کہ عمران خان جیسے قومی رہنما کو دو سال سے جیل میں رکھا گیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اور دعا پر یقین رکھتے ہیں، اور ہر مشکل میں اللہ سے مدد مانگتے ہیں، انشاءاللہ اللہ راستہ نکالے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ دو سال سے ہمارے لوگ صبر کر رہے ہیں، اور اب ججز بھی مسلسل فیصلے لکھ لکھ کر تھک چکے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ عمران خان کے تمام کیسز میرٹ پر لگیں اور ان پر قانون کے مطابق فیصلے ہوں۔اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس نے بیرسٹر گوہر اور سینئر وکیل لطیف کھوسہ سے وعدہ کیا تھا کہ عمران خان کی درخواستیں رواں ہفتے مقرر کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ وعدہ کسی عام آدمی نے نہیں بلکہ اعلیٰ ترین عدالتی عہدیدار نے کیا ہے، اور ہمیں اس پر یقین ہے۔شبلی فراز نے خبردار کیا کہ اگر کسی کو انصاف فراہم نہ کیا جائے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔ عوام عدالتوں میں انصاف کے حصول کے لیے آتے ہیں، اور اگر وہاں سے مایوسی ملے تو یہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عدالتوں پر دباؤ نہیں ڈال رہے، بلکہ انصاف کے لیے اپنا مؤقف پیش کرتے رہیں گے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم دراصل پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، ان جماعتوں نے اپنی سیاست خود تباہ کی ہے، اور جیسے ہی عمران خان رہا ہوں گے، ان کی حکومتیں بھی ختم ہو جائیں گی۔