بیرسٹر گوہر کا عدالتی نظام پر اظہارِ تشویش، بانی پی ٹی آئی کی جلد رہائی کی امید

بیرسٹر گوہر کا عدالتی نظام پر اظہارِ تشویش، بانی پی ٹی آئی کی جلد رہائی کی امید

اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جنوری میں سزا سنائی گئی تھی، لیکن ایسے کیسز کے فیصلے تو ایک ماہ میں ہو جانے چاہئیں۔

خان صاحب کی رہائی میں تاخیر پر وضاحت:
ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ "کیا خان صاحب کی رہائی اب اگلی عید تک چلی گئی ہے؟" تو بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ "ایک جج صاحب چھٹی پر تھے، اس لیے بانی پی ٹی آئی کا کیس نہیں لگ سکا۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی رہائی جلد ہوگی۔"

نیب بجٹ اور کارکردگی پر تنقید:
انہوں نے حکومت کے بجٹ میں نیب کے لیے ساڑھے سات ارب روپے مختص کرنے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ "اسی بجٹ کے ساتھ نیب نے پچھلے سال صرف 98 ریفرنسز دائر کیے تھے۔"

ججز کی تقرری اور زیر التوا مقدمات:
بیرسٹر گوہر نے آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت ججز کی تعداد بڑھانے کو ضروری قرار دیا گیا، لیکن اس کے باوجود زیرِ التوا کیسز میں کوئی کمی نہیں آئی:

"ہائیکورٹ میں 47 اور سپریم کورٹ میں 10 نئے ججز تعینات کیے گئے، مگر انصاف کا حصول آج پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔"
عالمی درجہ بندی میں تنزلی:
انہوں نے کہا کہ 1996 میں پاکستان رول آف لا انڈیکس میں 97ویں نمبر پر تھا، جبکہ آج ہم 129ویں نمبر پر آ گئے ہیں، جو عدالتی نظام پر عوامی اعتماد میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

سیاسی ماحول پر تبصرہ:
بیرسٹر گوہر نے اپیل کی کہ سیاسی اختلافات کو نفرت اور دشمنی میں نہ بدلا جائے:"جس کا انصاف پر کیس بنتا ہے، اسے انصاف ملنا چاہیے۔ ملک کو آگے بڑھنے دیں۔"
خلاصہ:
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے عدالتی تاخیر، نیب کی کارکردگی، اور انصاف کے نظام میں سست روی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی جلد ممکن ہوگی۔