ویب ڈیسک: بھارت میں بی جے پی کی قیادت اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر اقتدار پرستی اور سیاسی فائدے کے لیے سیکیورٹی امور کا استعمال کرنے کے الزامات میں شدت آ گئی ہے۔
بی جے پی صدر کے انتخاب میں تاخیر، پہلگام حملے اور متنازعہ ’آپریشن سندور‘ کے تناظر میں اپوزیشن نے مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دی ایشین ایج کی رپورٹ کا انکشاف
بھارتی اخبار "دی ایشین ایج" میں شائع ایک مضمون کے مطابق:’’مودی حکومت نے پہلگام حملے کو جواز بنا کر بی جے پی صدر کے انتخاب کو مؤخر کیا، جس سے پارٹی کے اندرونی خلفشار اور سیاسی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔‘‘رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کو امید تھی کہ پہلگام واقعہ اور ’آپریشن سندور‘ جیسی عسکری کارروائیاں آر ایس ایس اور عوامی رائے کو اپنے حق میں کر لیں گی، مگر حالات اس کے برعکس نکلے۔
پاکستان پر الزام اور عالمی سطح پر ناکامی
مودی حکومت نے حسبِ روایت اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، مگر بین الاقوامی سطح پر اس الزام کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔تجزیہ کاروں کے مطابق:’’مودی حکومت ایک بار پھر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سفارتی کمزوری اور شواہد کی عدم موجودگی ہے۔‘‘
سیاسی فائدے کے لیے ’ترنگا یاترا‘ اور آپریشن سندور کا استعمال
بی جے پی کی جانب سے ملک بھر میں نکالی جانے والی ’ترنگا یاترا‘ ریلیاں، اپوزیشن کی نظر میں محض ووٹ بینک بڑھانے کا سیاسی ہتھکنڈہ ہیں۔کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ:’آپریشن سندور‘ کی تفصیلات جان بوجھ کر عوام سے چھپائی جا رہی ہیں۔حکومت کو خصوصی پارلیمانی اجلاس بلا کر پہلگام حملے اور آپریشن سندور سے متعلق حقائق سامنے لانے چاہییں۔
تجزیہ کاروں کی رائے: سب کچھ ووٹ بینک کے لیے پلان کیا گیا؟
سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ:پہلگام حملے کا وقت مشکوک ہے۔’آپریشن سندور‘ کا اعلان اور تشہیر سب کچھ انتخابی مفادات کے تحت کیا گیا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ:
’’مودی سرکار نے عوام کے جذبات، قومی سلامتی اور دہشتگردی جیسے سنگین مسائل کو ووٹروں کی نفسیات سے جوڑ کر انتخابی سیاست کا حصہ بنا دیا ہے۔‘‘