ویب ڈیسک: بھارت میں مودی حکومت نے لوک سبھا میں آپریشن سندور سے متعلق ہونے والی 16 گھنٹے طویل بحث کے دوران سنجیدہ سوالات کے جواب دینے کے بجائے سیاسی پروپیگنڈے کو ترجیح دی۔
بی جے پی نے قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو پسِ پشت ڈال کر حزبِ اختلاف پر تنقید اور ہندوتوا بیانیے کو فروغ دینے پر زور دیا۔ بحث کے دوران حکومت آپریشن سندور، پہلگام حملے اور پاکستان کی دفاعی برتری پر واضح جواب نہ دے سکی۔
انٹیلیجنس ناکامی پر خاموشی
مودی سرکار ان سوالات پر بھی خاموش رہی کہ پہلگام حملے کے وقت سیکیورٹی اور طبی سہولتوں میں کمی کیوں تھی اور دہشت گرد حملے کے بعد کیسے فرار ہوگئے؟
امت شاہ کے جارحانہ بیانات
بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے مخالفین پر پاکستان اور اسلام کے حامی ہونے کا الزام لگا کر سیاسی ماحول مزید کشیدہ کر دیا، جسے بھارتی اخبار دی وائر نے ہندوتوا حامیوں کو متحرک کرنے کی منظم حکمت عملی قرار دیا۔
جنگی جنون اور حکومتی تضادات
بی جے پی اور گودی میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی، مگر حکومت نے خود ہی بھارتی افواج کے پاکستان کے شہروں پر قبضے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ دی وائر کے مطابق ٹرمپ کی ثالثی کا بار بار ذکر مودی حکومت کی خودمختاری کے بیانیے پر سوالیہ نشان ہے۔
عالمی برادری کی خاموشی
مودی سرکار فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی دعوتوں، چین کی پاکستان کو حمایت، اور عالمی برادری کی خاموشی پر بھی وضاحت دینے سے گریزاں رہی۔