ویب ڈیسک: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 10 کے فائنل میں لاہور قلندرز کی کامیابی کے اصل ہیرو آل راؤنڈر سکندر رضا بن گئے، جنہوں نے صرف بیٹنگ میں نہیں بلکہ اپنی بے مثال کمٹمنٹ اور پروفیشنلزم سے بھی شائقین کرکٹ کے دل موہ لیے۔
انگلینڈ سے لاہور تک کا سفر – صرف 24 گھنٹوں میں
دلچسپ امر یہ ہے کہ سکندر رضا فائنل سے صرف 24 گھنٹے قبل انگلینڈ کے شہر ناٹنگھم میں ایک ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے۔جیسے ہی ان کا ٹیسٹ میچ ختم ہوا، انہوں نے بغیر وقت ضائع کیے تین مختلف فلائٹس سے سفر کرتے ہوئے دبئی کے راستے لاہور کا رخ کیا۔
ناٹنگھم سے پہلی فلائٹ پر روانگی
دبئی میں مختصر قیام
پھر فوری طور پر لاہور پہنچنا
بغیر آرام کیے سیدھا میدان میں اترنا
ٹیم کے لیے قربانی، جیت کے لیے جذبہ
لاہور پہنچتے ہی سکندر رضا نے قلندرز کی جرسی پہنی اور فائنل میچ کھیلنے کے لیے فوراً میدان میں اتر گئے۔ان کا کہنا تھا:"مجھے معلوم تھا کہ ٹیم کو میری ضرورت ہے، میں نے ہر گیند کو بھرپور توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ کھیلنے کا عزم کیا تھا۔"
فیصلہ کن شاٹ، جیت کا لمحہ
سکندر رضا نے نہ صرف میچ کے آخری اوور میں فیصلہ کن شاٹ کھیل کر لاہور قلندرز کو فائنل میں فتح دلائی بلکہ اپنے عمل سے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کھیل صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی وابستگی کا نام بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھرپور خراج تحسین
کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر سکندر رضا کی غیر معمولی کارکردگی، لگن اور قربانی کو خوب سراہا۔
کئی صارفین نے کہا:
"یہی ہوتے ہیں اصل ہیرو!"
"سکندر رضا – لاہور کا سچا شیر!"
"پروفیشنلزم کی اعلیٰ مثال۔"
حب الوطنی اور ٹیم اسپرٹ کی اعلیٰ مثال
سکندر رضا کی یہ کمٹمنٹ صرف ایک کھلاڑی کی کارکردگی نہیں بلکہ ٹیم اسپرٹ، حب الوطنی، اور پیشہ ورانہ رویے کی ایک اعلیٰ مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ ان کی یہ قربانی نہ صرف قلندرز کے لیے تاریخی جیت کا ذریعہ بنی بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک سبق بن گئی کہ جب ٹیم پکارے، تو "میں حاضر ہوں" کہنا ہی اصل جذبہ ہے۔