سجاد علی شاکر
جنوبی ایشیاء کی تاریخ سیاسی، نظریاتی اور جغرافیائی تنازعات سے عبارت ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں ان تمام تنازعات کے سائے میں ایک اور خطرہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے ، اور وہ ہے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی حکمت عملی۔ بھارت کی جانب سے دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹ، بغیر اطلاع پانی چھوڑنا، اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے جیسے اقدامات پاکستان کے لیے ایک نئے ماحولیاتی، زرعی اور سلامتی کے بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔حال ہی میں بھارت نے دریائے چناب پر بنائے گئے بگلیہار اور سلال ڈیمز کے ذریعے پانی کی روانی کو خطرناک حد تک محدود کر دیا۔ ہیڈ مرالہ پر معمول کے مطابق 25 تا 30 ہزار کیوسک پانی دستیاب ہوتا تھا، جو کم ہو کر محض 3,100 کیوسک رہ گیا۔ اس کمی کے باعث نہ صرف نہری نظام متاثر ہوا بلکہ زراعت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔اس کے بعد بھارت نے بغیر کسی اطلاع کے 28 ہزار کیوسک پانی اچانک چھوڑ دیا جس کے نتیجے میں ممکنہ سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ مقامی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ یہ طرزعمل نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک دشمنانہ رویہ بھی ہے۔اسی طرز کی جارحیت بھارت نے دریائے جہلم پر بھی دکھائی۔ بغیر اطلاع کے پانی چھوڑنے کے باعث مظفرآباد میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی۔ مقامی علاقوں میں آبی ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ کیا یہ محض تکنیکی غلطی تھی یا سوچی سمجھی کارروائی؟ پاکستان کے ادارے اسے ایک باقاعدہ آبی جارحیت سمجھتے ہیں، اور بجا طور پر۔1960ء میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ضامن رہا ہے۔ اس کے تحت مغربی دریا (سندھ، چناب، جہلم) پاکستان کے لیے مختص کیے گئے جبکہ مشرقی دریا بھارت کو دیے گئے۔تاہم، حالیہ بیانات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کو "وہ پانی نہیں ملے گا جس پر بھارت کا حق ہے"۔ گویا بھارت اب اس معاہدے کو یا تو نظر انداز کر رہا ہے یا یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار ہو چکا ہے۔ یہ عمل خطے کے امن کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔پاکستان کی حکومت نے درست طور پر اس معاملے کو اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز پر اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس منعقد ہوئے ہیں، اور سفارتی سطح پر سرگرمی تیز کی گئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟جواب واضح ہے: نہیں۔ پاکستان کو اپنی داخلی تیاری پر توجہ دینی ہوگی۔ ہمیں نئے ڈیمز کی تعمیر، پانی کے ذخائر کی مؤثر منصوبہ بندی، اور کسانوں کو بدلتے ہوئے آبی حالات سے نمٹنے کے لیے جدید آلات کی فراہمی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔بھارت کی موجودہ روش صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک نظیر ہے۔ دنیا بھر میں جہاں بھی دریا سرحدیں عبور کرتے ہیں، وہاں پانی کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔بھارت کی آبی جارحیت کے حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پانی آنے والے دنوں میں سب سے بڑا عالمی تنازع بن سکتا ہے۔ ہمیں فوری طور پر نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ ماحولیاتی، زرعی، اور سیکیورٹی پالیسیوں میں بھی جامع اصلاحات کرنا ہوں گی۔یہ وقت احتجاج کا نہیں، عملی اقدامات کا ہے۔ ہمیں بھارت کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اور اگر خطے میں امن مطلوب ہے تو آبی انصاف ناگزیر ہے۔
ََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔