ہمارے آبی بینک دیوالیہ ہونے کو ہیں۔

 نازیہ آصف 

 اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں 
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے کہ وہ انھیں ہلا نہ دے اور ہم نے ان میں کشادہ راستے بنا دیے تاکہ وہ راہ پائیں (سورہ النباء￿ )
'' کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخیں '' ) النبا، 78: 6
پہاڑ اللہ پاک کی قدرت حکمت اور جابر ہونے کی نشانیاں ہیں۔ اللہ پاک نے یہ کائنات تسخیر انسان کے لیے بنائی۔ جس میں پہاڑ اس کی عظمت کی نشانی ہیں اور ہم انسانوں کے لیے یہ حکم ہے کہ "ان میں گھوموں پھرو اور اللہ پاک کی نشانیاں تلاش کرو " ۔ پہاڑ اور ان پہ جمے گلیشیر خاص طور پہ زندگی کی علامت ہیں۔ پاکستان جغرافیائی حوالے سے خط استوا کے شمالی کرے میں واقع ہے۔ خط استوا سے دور واقع ممالک کو اللہ پاک نے یہ خاصیت بخشی ہے کہ وہاں موسم بدلتے رہتے ہیں موسموں کے اس  تغیر میں کء بھید پوشیدہ ہیں۔ ملک خداداد کے لیے ان میں سے ایک بڑا بھید ان پہ جمے گلیشیر ہیں۔
پاکستان کے شمال میں واقع وسیع تر ہمالیہ، قراقرم اور لداخ کے پہاڑی سلسلے اور ان پہ جمی برف  ہمارے لیے لائف لائن ہے۔ یہ ہمارے آبی بینک ہیں۔
گلوبل وارمنگ کے اس دور میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان پہلے نمبر پہ ہے۔ اگرچہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ گرین گیسز کا اخراج ہے جس میں پاکستان کا حصہ صفر یے، مگر پھر بھی پاکستان پہ اس گلوبل وارمنگ کے بدترین اثرات ہم گزشتہ چند سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔یہ اسی وارمنگ کا نتیجہ ہے کہ سردیاں سکڑتی جا رہی ہیں اور گرمیاں شدید تر ہوتی جا رہی ہیں ، ہر سال گرمی پچھلے ریکارڈ توڑ رہی ہے۔  جس سے ہمارے یہ آبی بینک مسلسل دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دو چار ہوتے جا رہے ہیں۔
حالیہ بارشیں ، کلاؤڈ برسٹ ہونا، گلیشیرز کا ٹوٹنا یہ معمولی کلائمیٹ چینجز کی علامتیں نہیں ہیں ، یہ بہت الارمنگ چیزیں ہیں۔ گلیشیر سالہا سال سے برف کے لگاتار ایک جگہ پہ جمتے رہنے کا نام ہے۔
پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں دنیا کے طویل ترین گلیشئیر جیسے سیاچن گلیشیر ، بالتورو گلیشیر ، ہسپر گلیشیر ،بیافوگلیشیر موجود ہیں۔گلیشیروں کا یہ پگھلاؤ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ سمندری برف، انٹارکٹیکا اور گرین لینڈ کے گلیشیئروں پہ بھی سرعت سے جاری ہے۔
ماہرین کے ایک اندازے کے مطابق اٹھارہ سو ستر سے اب تک آٹھ انچ سمندر کی سطح بڑھی ہے۔ 
امریکن انسٹی ٹیوٹ ورلڈ واچ نے خدشہ ظاہر کیا یے کہ اگر گلوبل وارمنگ ایسے ہی جاری رہی تو دنیا کے کئی شہر ہی نہیں بلکہ ملک بھی بہت جلد زیرآب آ جائیں گے۔ جن میں پاکستانی شہر کراچی، بدین،ٹھٹھہ اور خوبصورت جزیرہ نما ملک مالدیپ فہرست ہیں۔ گلوبل وارمنگ سے سمندروں کی بڑھتی سطح آب کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں دھکیل رہی ہے۔
ہمارے کراچی کے ساحلوں پہ مینگروز کے جنگلات کا سمندر برد ہو جانا سمندری سیلاب میں اضافے کی ایک 
     بڑی وجہ بھی بن سکتا ہے۔                             
قارئین سوال یہ پیدا ہوتا یے کہ اس سارے پس منظر میں  وسیع آبی بینک رکھنے والا پاکستان کہاں کھڑا ہے۔
ہم ایک طرف تیزی سے ڈوبنے کی طرف جا رہے ہیں تو دوسری طرف ہم بہت شدومد سے خشک سالی کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔
ہمارے شمالی علاقے ہی نہیں بلکہ ، میدانی علاقوں کی آبپاشی کا انحصار بھی انھیں دریاؤں پر ہے جن کی سارا سال روانی کا منبع یہی گلیشیرز ہیں۔ اگر یہ گلیشیر اس گلوبل وارمنگ کا نشانہ بن گئے تو ہمارے دریاؤں کی خشک سالی کا نتیجہ قحط کی صورت میں رونما ہو سکتا ہے۔جبکہ ہمارے ہاں مون سون کی صورت میں لاکھوں کروڑوں کیوسک پانی ضائع ہو رہا ہے۔
پاکستان اپنے ہاں موجودہ پانی کا صرف %10 ہی سٹور کر پاتا یے جبکہ باقی %90 فیصد پانی سمندر برد ہو جاتا یے،  یہ عمل اپنے ہاتھوں خودکشی کرنے سوا کچھ نہیں ہے۔ 
عالمی سٹینڈرڈ  کے مطابق ہر ملک کے پاس  اوسطا 120 دنوں کے لیے پانی کا ذخیرہ موجود ہونا لازم ہے جبکہ ہم اپنے ہاتھوں سارا پانی لٹا کر صرف 30 دن کے لیے ہی پانی ذخیرہ کر پا رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے مقابلے میں چائنا ایک ہزار دن اور انڈیا 120 سے 220 دنوں تک کے ہانی کا ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
اگر ہمارے ہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش  ہوتی تو انڈیا ہمیں پانی بند کرنے کی دھمکی دینے کی پوزیشن میں ہوتا  اور نہ ہم اس دھمکی کو آبی جارحیت کا نام دیتے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اتنے نادان کیوں ہیں کہ جس شاخ پہ بیٹھے ہیں اسی کو اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہے ہیں۔
چائنا ہزار دنوں کی واٹر سٹوریج کے باوجود اپنے آبی بینک یعنی ڈاگو گلیشیر کو سفید شیٹ سے ڈھانپنے کی پلاننگ کر رہا ہے۔ یہ سفید شیٹ گلیشیر  اور سورج کی سخت شعاعوں کے آگے ایک مضبوط بیرئیر ثابت ہو گی اور برف کے پگھلنے میں بہت بڑی مزاحمت بھی ہوگی جس سے گلیشئر کی زندگی بڑھے گی۔
قارئین سوال یہ ہے کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے کس معجزے کے منتظر ہیں ، ہمیں  خشک سالی سے کون بچانے آئے گا اور پھر ڈوبتے وقت ہم کدھر دیکھیں گے۔
ہماری حکومتیں اپنے مفاد کے لیے ایک میٹھی ہو سکتی ہیں تو مفاد عامہ کے لیے کیوں نہیں۔۔۔ ,,
عصر حاضر کا تقاضا ہے کہ تمام قوم پرست ، مذہبی ، سیاسی جماعتیں پانی کے ذخائر کے لیے یک مٹھ ہوں اور پانی کے ذخائر بڑھانے پہ توجہ دیں۔ بڑے اور چھوٹے ڈیمز بنائیں ، ہمیں  ایک ہزار نہیں تو کم سے کم پانچ سو دنوں کے لیے ہی پانی ذخیرہ رکھنا چاہیے۔

اب تو عالمی بینک  نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں صوبوں کے درمیان  پانی کے  مسلے پر بڑھتی ہوئی چپقلش پانی کا باقاعدہ نظام وضع کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمارا دشمن ہمیں دھمکیاں دے رہا یے جس کا حالیہ مظاہرہ ہم نے جنگ کی ابتدا میں ہی دیکھ لیا ہے۔
قارئین ! اگر اب بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو پھر ہمیں ایک ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے  ڈوب کر مرنا ہے یا  سوکھ کر

naziaasifadv786@gmail.co