بھارتی جارحیت علاقائی امن کیلئے خطرہ

عابد گوندل
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ سے ملاقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی ایشیا ایک بار پھر بھارتی جنگی جنون، اشتعال انگیز بیانات اور خطے میں طاقت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے باعث کشیدگی کی زد میں ہے۔ اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارم پر اسحاق ڈار کا بھارتی جارحیت پر موقف پیش کرنا نہ صرف پاکستان کے اصولی موقف کی ترجمانی ہے بلکہ یہ عالمی برادری کو متنبہ کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے کہ بھارت کے رویے سے نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورا علاقائی امن و استحکام خطرے میں ہے۔اس ملاقات میں اسحاق ڈار نے بھارت کے مسلسل جارحانہ طرز عمل،سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے اوردنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ڈس انفارمیشن کی مہم  کے بارے میں بات کی۔ ان تینوں امور کی نوعیت اور سنگینی ایسی ہے کہ عالمی برادری کو خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ فوری اور موثر سفارتی، قانونی اور سیاسی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔بھارت کی خارجہ اور دفاعی پالیسی گزشتہ چند سالوں سے نہایت جارحانہ ہوتی جا رہی ہے۔ مودی سرکار کے زیرِ سایہ ہندو قوم پرستی کا پرچار کرتے ہوئے بھارت نے نہ صرف اپنے اقلیتوں کے خلاف اقدامات میں شدت پیدا کی بلکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بھی مستقل محاذ آرائی میں تبدیل کر دیا ہے۔ چاہے وہ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ ہو، بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت ہوں یا کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں، بھارت مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جو کسی بھی مہذب ریاست کے لیے ناقابل قبول ہیں۔اس پس منظر میں اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ کے صدر کو بھارتی رویے کے سنگین نتائج سے آگاہ کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔ جنوبی ایشیا ایک ایسا خطہ ہے جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور معمولی اشتعال انگیزی بھی تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اسحاق ڈار نے درست طور پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا کہ اگر بھارت کو نہ روکا گیا تو خطے کا امن مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے۔اسحاق ڈار نے جس دوسری اہم بات کی نشاندہی کی وہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ہے۔ یہ معاہدہ 1960ء￿  میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا اور اسے جنوبی ایشیاء￿  میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو معطل کرنا صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، معاہداتی نظام اور آبی وسائل کی عالمی تقسیم کے اصولوں کے لیے بھی ایک دھچکا ہے۔ اگر طاقتور ممالک اپنی من مانی سے معاہدے توڑنے لگیں تو عالمی نظم کا کیا بنے گا؟پاکستان کی آبادی اور زراعت کا انحصار دریائوں کے اس نظام پر ہے جو بھارت سے آتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ان دریائوں کے پانی کی تقسیم کو تحفظ دیتا ہے۔ بھارت کی جانب سے اس کی معطلی درحقیقت پاکستان کو آبی دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی کوشش ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسحاق ڈار نے اس معاملے کو 
اقوام متحدہ میں اٹھا کر نہ صرف پاکستان کے تحفظات کا اظہار کیا بلکہ دنیا کے ضمیر کو یہ پیغام بھی دیا کہ آبی معاہدے، جنگ کا ذریعہ نہیں امن کا راستہ ہونے چاہئیں۔ڈس انفارمیشن یا جھوٹی خبروں کا جال پھیلانا ا?ج کل جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکا ہے اور بھارت اس ہتھیار کو بھرپور انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ یورپی یونین کے ادارےEU DisinfoLab نے اپنی رپورٹ میں بھارت کی جانب سے جعلی این جی اوز، جعلی صحافیوں اور جعلی میڈیا ہائوسز کے ذریعے پاکستان کے خلاف دنیا بھر میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کا انکشاف کیا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت نے درجنوں جعلی ادارے بنا کر اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی۔ اسحاق ڈار نے اس ملاقات میں اس جھوٹے پروپیگنڈے کی مذمت کی اور واضح کیا کہ سچ کو چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے والے خود دنیا میں بے نقاب ہو چکے ہیں۔اس ملاقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل گورننس کی بہتری کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔۔ پاکستان کا یہ موقف کہ اقوام متحدہ کو مزید موثر، شفاف اور جمہوری بنانا چاہیے ایک اصولی موقف ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، غربت، تنازعات اور عالمی وبائوں جیسے موجودہ عالمی چیلنجز ایسے عالمی اداروں کا تقاضا کرتے ہیں جو فوری، منصفانہ اور موثر فیصلے کر سکیں۔پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارمز پر نہ صرف اپنی سلامتی بلکہ پوری دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کی وکالت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار نے اصلاح شدہ ملٹی لیٹرل ازم کی حمایت کرتے ہوئے دنیا کو یاد دلایا کہ ہم سب کی بقا ایک منصفانہ عالمی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ اسحاق ڈار کی ملاقات بظاہر ایک سفارتی روایت تھی لیکن اس کے اثرات بہت گہرے اور دور رس ہو سکتے ہیں بشرطیکہ عالمی برادری اس پیغام کو سنجیدگی سے لے۔ بھارتی جارحیت، معاہدوں کی خلاف ورزی، اور جھوٹے پروپیگنڈے نے عالمی امن کے اصولوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر آج بھی دنیا نے آنکھیں بند رکھیں تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔اقوام متحدہ کے صدر فائلیمن یانگ کی قیادت میں اگر عالمی ادارے اصلاحات کی راہ پر چلتے ہیں اور ایسے ممالک کو جوابدہ بناتے ہیں جو قانون، امن اور سچائی کی خلاف ورزی کرتے ہیں،تو دنیا ایک بہتر، پرامن اور متوازن جگہ بن سکتی ہے۔