عاصم رضا خیالوی
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے صرف لاشیں، آنسو اور ویرانیاں چھوڑیں۔ جہاں توپ چلی، وہاں فصلیں نہیں اگتیں، جہاں بم گرے، وہاں علم و تہذیب دم توڑ دیتی ہے۔ لیکن جو قومیں امن کو اختیار کرتی ہیں، وہی دنیا کو نئی جہتیں دیتی ہیں۔ آج پاکستان دنیا کو اسی ابدی سچ کی یاددہانی کروا رہا ہے: جنگیں قوموں کو مٹا دیتی ہیں، امن قوموں کو بنا دیتا ہے۔
حالیہ دنوں میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ایک بار پھر اس حقیقت کی تصدیق ہے کہ طاقت صرف اسلحے یا ٹیکنالوجی کا نام نہیں، بلکہ اصل طاقت بردباری، حکمت، اور امن کے عزم میں ہے۔ پاکستان نے دشمن کی اشتعال انگیزیوں کا جواب تدبر، عقل مندی اور اصولی استقامت سے دیا — اور یہی وہ رویہ ہے جس نے بھارت کو چند ہی دنوں میں سیز فائر کی منتیں کرنے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان کی عسکری، سیاسی اور سفارتی قیادت نے مل کر ایک ایسا پیغام دیا جس نے دنیا کو چونکا دیا: کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر جنگ ہم پر مسلط کی گئی تو ہم اپنے جذبہ? ایمانی، پیشہ ورانہ مہارت اور جرات سے دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رفیل جیسے جدید طیارے محض مشینیں ہیں، لیکن پاکستان کے سپوت وہ فولاد ہیں جنہیں ایمان، قربانی اور غیرت نے تراشا ہے۔
یہ محض ایک عسکری کامیابی نہیں — یہ ایک نظریاتی فتح ہے۔ یہ فتح اس سوچ کی ہے جو انسانیت کو بچانے پر یقین رکھتی ہے، نہ کہ اسے فنا کرنے پر۔ آج دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے، نہ صرف ایک ایٹمی طاقت کے طور پر، بلکہ ایک مدبر، پرعزم، اور امن پر یقین رکھنے والے ملک کے طور پر۔
دنیا کے تمام ممالک کو سوچنا ہوگا: کیا ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں قلم دیکھنا چاہتے ہیں یا بندوق؟ کیا ہم شہروں کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں یا ملبے میں ڈوبا ہوا؟ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم امن کے معمار بنیں گے یا جنگ کے سودا گر۔
پاکستان نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے: ہم امن چاہتے ہیں — لیکن عزت و وقار کے ساتھ۔ ہم طاقتور ہیں — لیکن اس طاقت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کریں گے۔
آئیے! دنیا مل کر ایک نیا عہد کرے — کہ آئندہ جنگ نہیں، صرف امن ہوگا۔ کیونکہ طاقت امن میں ہے، تباہی نہیں — اور امن ہی وہ روشنی ہے جو دنیا کو تاریکیوں سے نکال سکتی ہے۔