طاقت کی بساط اور حکمت کا امتحان

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اگرچہ بعض کمزورہوچکے، مگردیگر اب بھی بھاری ہتھیاروں اورنظریاتی وابستگی سے لیس ہیںاوریہی غیریقینی عنصرسب سے زیادہ خطرناک ہوتاہے۔خطے میں حزب اللہ کوکافی کمزورکیاجاچکاہے مگروہ باقی اوربرقرار  ہے اورخطے میں ملٹی خطرات میں پراکسی نیٹ ورک کے جال ک ابھی تک مکمل طورپرختم نہیں کیاجاسکاجس کی بناپرمعمولی چنگاری بھی آگ کے بڑے گوداموں میں دہماکے کیلئے کافی ہوتی ہے۔
کتائب حزب اللہ کے کمانڈرکابیان محض للکارنہیں،بلکہ ایک نظریاتی بسیج کااعلان ہے۔یہ جنگ پارک میں چہل قدمی نہیں ہوگی ،یہ جملہ مزاحمت کی نفسیات کوایک فقرے میں سمو دیتاہے جو ان تمام گروپوں کومتحرک کردینے کیلئے کافی ہے جواپنی جانیں ہتھیلی پر لئے میدان جنگ میں کودنے کیلئے ایک حکم کے منتظرہیں جس کے بعددنیابھر میں امریکی مفادات کیلئے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے۔ 
ہرریاست اس آگ سے دوررہناچاہتی ہے،مگر شعلے ہمسایہ ہونے کالحاظ نہیں رکھتے۔خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کونشانہ بنانے کی دھمکی،اورسعودی قیادت سے رابطہ،سفارت کاری اورجنگ کے بیچ جھولتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہے۔سعودی عرب کی پیشگی علیحدگی ایک محتاط خودحفاظتی حکمتِ عملی ہے،جبکہ دیگرریاستوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔اس حوالے سے سعودی کی غیر جانبداری،قطر/یو اے ای کی مبہم پالیسی اورپاکستان پرشدیددبا ے خطے کوعجیب صورتحال سے دوچارکررکھاہے۔پاکستان کی فضائی حدود اور بلوچستان
کے استعمال سے متعلق افواہیں محض عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کا حساس باب ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ فیصلہ محض ایک’’ ہاں یاناں‘‘ نہیں،بلکہ قومی سلامتی،علاقائی توازن اور داخلی استحکام کاسوال ہے۔پاکستان کیلئے یہ فیصلہ تاریخ،جغرافیہ اورقومتینوں کے سامنے جواب دہ ہے۔انکارکی صورت میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حوالے سے خدشات تاریخ کے ان سائے دارابواب کی یاددلاتے ہیں جہاں بالواسطہ دبابراہِ راست جنگ سے زیادہ کارگرسمجھاجاتاہے۔جب بندوق سامنے سے نہ چلے توسازش پیچھے سے چلتی ہے۔ امریکی وزیرِخارجہ کے ذومعنی اشارے اسی روایت کاتسلسل دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان کارڈکھیلنے کی پشت پرشورش کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہائبرڈجنگ کااژدھاایک خطرہ بن کر ڈسنے کیلئے تیاربیٹھاہے۔ 
ایران پرحملے کی صورت میں پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک نازک امتحان سے دوچارہوگا۔یہ معاہدہ جنگ میں نہیں،جنگ سے بچنے میں آزمائش کاشکارہوگا۔یہاں توازن، خاموش سفارت کاری اورپسِ پردہ مشاورت فیصلہ کن کرداراداکرے گی۔براہ راست فوجی مداخلت کا امکان نہیں لیکن اس کیلئے بھرپورمشاورت کی اہم ضرورت ہوگی ۔ترکی جیسا مضبوط علاقائی کھلاڑی عموما خاموش تماشائی نہیں رہے گامگرتلوار کی بجائے ترازوہاتھ میں رکھے گا۔اس کاردِعمل غالبا سفارتی دبا،علاقائی ثالثی اوراپنے مفادات کے تحفظ کے گرد گھومے گااوروہ نیٹوکے اہم اتحادی ہونے کے ناطے ایک متوازن کردارادا کرنے کیلئے ابھی سے سرگرم ہے۔
ادھردوسری طرف روس کی خاموشی چیخ سے زیادہ معنی خیزہوسکتی ہے۔روس کی خاموشی اگربرقراررہتی ہے تویہ یوکرین کے بدلے سودے بازی کی ایک اورمثال ہوسکتی ہے۔تاریخ میں طاقتورریاستیں اکثرایک محاذپرخاموشی کودوسرے محاذپرفائدے سے جوڑتی رہی ہیں۔روس یقیناخطے میں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں سٹریٹجک ابہام سے کام لیتے ہوئے یوکرین میں اپنے مفادکی شطرنج میں فتح کی امیدلگائے بیٹھاہے۔
افغانستان کے بٹگرام ہوائی اڈے اورمبینہ سائبروارکی کہانی جدیددورکی غیرمرئی جنگ کااستعارہ ہے۔یہ جنگ بغیربارودکے تھی مگر نتائج آتشیں ہوسکتے تھے۔ایران کی جانب سے بروقت ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ آج کی جنگ صرف میدانوں میں نہیں،نیٹ ورکس میں بھی لڑی جاتی ہے۔حالیہ سائبروارمیں اسٹارلنک کی سازشوں کوناکام بنانے میں پاک ایران-چین/روس کوآرڈینیشن نے ایک اہم کرداراداکیاہے جس کے بعدایران میں ہونے والے ہنگاموں سے حاصل ہونے  والی منزل کو شدید ترین پسپائی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
امریکاکی ناکامی کے بعدبراہِ راست حملے اورہمسایہ ممالک پردباؤکاامکان ایک خطرناک کھیل کی طرف اشارہ کرتاہے۔خطے کے ممالک بظاہرخاموش ہیں،مگرپرد ہ سیمیں کے پیچھے سفارتی شطرنج جاری ہے،مقصدایک ہی ہے:اس آگ کوبھڑکنے سے پہلے بجھا دیاجائے،کیونکہ اس کے شعلے سرحدیں نہیں پہچانتے۔یہ خطہ ایک بارپھرتاریخ کے دہانے پرکھڑاہے جہاں ایک غلط قدم صدیوں کا بوجھ بن سکتاہے۔اس لئے محفوظ اورپرامن مستقبل کے کیلئے علاقائی کشیدگی،جنگ کی روک تھام کیلئے اجتماعی سفارت کاری کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
امریکاکی جانب سے فضائی یازمینی سہولتوں کامطالبہ پاکستان کیلئے ہائی رسک فیصلہ ہوگا۔اجازت کے فوائدمحدوداورخطرات ناقابل حد تک بلندہیں۔اجازت کی صورت میں داخلی سلامتی(خصوصابلوچستان)اورانکارکی صورت میں سفارتی دباؤاورہائبرڈخطرات بڑھ سکتے ہیں۔بلوچستان کسی بھی بیرونی عسکری کشیدگی کی صورت میں پراکسی تشدد،اورانفارمیشن آپریشنزکااولین ہدف بن سکتاہے۔ایران ،امریکاتصادم کی شدت بڑھنے پرسرحدی دباؤ،اسلحہ وفنڈنگ کی غیرقانونی ترسیل اورعلیحدگی پسندبیانیے کے دوبارہ فعال ہونے کا امکان بڑھ جاتاہے۔
کسی بھی بیرونی عسکری تعاون کاسب سے فوری ردِعمل بلوچستان میں شدت پسندعناصرکی فعالیت میں اضافے کی صورت میں آسکتا ہے۔ریاست کوانسدادِدہشتگردی،انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اورسیاسی مصالحت کویکجارکھناہوگا۔بلوچستان میں داخلی سلامتی کے چیلنجزکو مدنظررکھتے ہوئے ریاست کیلئے ناقابل برداشت حدود،واضح سرخ لکیراورعملی رولزآف انگیجمنٹ کاتعین ناگزیرہے تاکہ بیرونی مداخلت،ہائبرڈوارفیئراورداخلی انتشارکوبروقت اورمتناسب اندازمیں روکاجاسکے،جبکہ شہری حقوق،سیاسی عمل اورقومی وحدت محفوظ رہیں۔ یہی توازن پاکستان کوبیرونی جنگ کے شعلوں سے محفوظ رکھ سکتاہے۔
ایران کے ساتھ طویل سرحداورتوانائی/تجارت کے امکانات پاکستان کومحتاط سفارت کاری کاپابندکرتے ہیں۔کشیدگی میں اضافہ سرحدی سلامتی اوراقتصادی منصوبوں کومتاثرکر سکتا ہے۔پاکستان کی پالیسی غیرجانبدارانہ حقیقت پسندی،تعاون برائے امن،نہ کہ جنگ،انسانی امداد،سفارت کاری،ثالثی کی پیشکش اورعسکری شمولیت سے اجتناب پرقائم رہنی چاہیے ، خطے میں جنگی فضاسی پیک کیلئیخطرات بڑھاسکتی ہے۔پاکستان کوچین کے ساتھ اسٹریٹجک کمیونیکیشن مضبوط رکھنی ہوگی تاکہ اقتصادی مفادات محفوظ رہیں۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے دفاعی واقتصادی تعلقات اہم ہیں،مگرپاکستان کیلئے کسی بلاک میں کھڑے ہونے کی بجائے پل کا کردارزیادہ سودمندہے۔براہِ راست جنگ میں شمولیت کے بغیرفضائی وسرحدی نگرانی،سائبرسیکیورٹی،داخلی امن وامان کی مضبوطی کیلئے عسکری تیاریاں مکمل رکھنے کی ضرورت ہے۔
اب ضرورت اس امرکی ہے کہ اوآئی سی کے رکن ممالک اقوامِ متحدہ کے منشوراوراسلامی اخوت کے اصولوں کی توثیق کرتے ہوئے، مشرقِ وسطی میں بڑھتی عسکری کشیدگی پرشدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے،خودمختاری،علاقائی سالمیت اورانسانی جانوں کے تحفظ کوبنیادی قدرمانتے ہوئے فوری طورپران چندعملی نکات پرعملدرآمدکیلئے تمام سفارتی دباؤ استعمال کرتے ہوئے اپناکرداراداکریں: 
٭اوآئی سی کے تحت اعلی سطحی ثالثی کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جائے۔
٭ایران،امریکا تنازعے کے حل کے تمام فریقین سے فوری کشیدگی میں کمی اورطاقت کے استعمال سے گریزکے عملی اقدامات کی ٹھوس تجاویزمرتب کی جائیں۔
٭براہِ راست مذاکرات کی حوصلہ افزائی کیلئے خطے میں جنگ کے خطرات کوختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔
٭خطے میں تمام ممالک کواپنی سرزمین کسی بھی جارحانہ کارروائی کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کاعہدکیاجائے۔
٭اقوام متحدہ اوراوآئی سی کے اشتراک سے قائم کردہ کمیٹی  کی مشترکہ کاوشوں سے انسانی حقوق کے تحفظ اورشہری ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کی جائے اوران ہنگاموں کے درپردہ غیرملکی سازشوں کوبھی منظرعام لاکراس کاتدارک کیاجائے۔
٭خطے میں علاقائی پراکسی جنگوں کی مذمت اورغیرریاستی مسلح گروہوں کے عدم استعمال پرزوردیتے ہوئے ان ممالک کے خلاف مشترکہ ٹھوس اقدامات کئے جائیں جوان پراکسی جنگوں کے شعلوں کوبھڑکانے کیلئے تیل فراہم کررہے ہیں۔
٭کسی بھی غیرملکی انٹیلی جنس،عسکری اثاثے یاپراکسی نیٹ ورک کی جانب سے سرحدپاردراندازی یالاجسٹک سپورٹ ناقابلِ برداشت ہوگی۔
٭گوادر،سی پیک منصوبے،گیس تنصیبات،بندرگاہیں،اورمواصلاتی انفراسٹرکچرپرحملہ ریاستی ردِعمل کوفوری اورفیصلہ کن بنائے گا۔
٭کسی بھی چینل کے ذریعے غیرملکی مالی یاعسکری معاونت کی دریافت پرسخت ترین قانونی وسیکیورٹی کارروائی ہوگی۔
اسلامی دنیاکیلئے اجتماعی حکمت اورثالثی ہی وہ راستہ ہے جوخطے کوایک اورتباہ کن تصادم سے بچاسکتاہے، پاکستان کیلئے بہترین راستہ امن کی فعال سفارت کاری ہے نہ خاموش تماشائی ،نہ جنگی فریق۔پاکستان کیلئے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ جنگ کے شورمیں امن کی آوازبنے،اوراسلامی دنیاکیلئے وقت کاتقاضا یہ ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت کورہنمابنائے۔ تاریخ گواہ ہے جنگیں طاقت سے شروع ہوتی ہیں، مگر انجام ہمیشہ عقل لکھتی ہے۔