وزیراعظم شہباز شریف کا تاریخی خطاب: امن، طاقت اورسفارت کاری کا امتزاج

 خادم حسین
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں جو تاریخی خطاب کیا وہ محض ایک تقریر نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی اور فکری منشور ہے جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، ایک ایسا خطاب جس نے طاقت، امن، سفارت کاری اور اصولیت کو ایک ہی ریشمی دھاگے میں پرو کر دنیا کے سامنے پاکستان کے اصل چہرے کو اجاگر کیا، یہ خطاب اس وقت سامنے آیا جب دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، طاقت کے توازن بگڑ رہے ہیں، عالمی قوانین کھلے عام پامال کیے جا رہے ہیں، ریاستوں کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور پڑ رہی ہے، ماحولیاتی اور معاشی بحران انسانیت کو گھیرے میں لے رہے ہیں اور دنیا کے مختلف خطے جنگ، دہشتگردی اور انتہا پسندی کی آگ میں جل رہے ہیں، ایسے میں شہباز شریف کی زبان سے نکلا ہر جملہ دنیا کے ایوانوں میں گونجا اور یہ باور کرایا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے، طاقت کا نہیں اعتماد کا سفر چاہتا ہے، جارحیت کا نہیں تعاون کا راستہ اپنانا چاہتا ہے۔وزیراعظم نے سب سے پہلے دنیا کی موجودہ سنگین صورتحال کا خاکہ کھینچا، ایک ایسا منظرنامہ جس میں طاقتور ممالک اپنی مرضی کے قوانین بنا کر چھوٹے ملکوں پر مسلط کرتے ہیں، جہاں ترقی پذیر ممالک غربت، بدامنی، مہنگائی اور ماحولیاتی تباہ کاریوں میں گھیرے ہوئے ہیں، جہاں پرانی دشمنیاں نئی شکلوں میں ابھر رہی ہیں اور جہاں مفادات کی جنگ نے بستیاں اجاڑ دی ہیں، دہشت گردی اور انتہا پسندی اب بھی عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گمراہ کن پروپیگنڈا عوام اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کو ختم کر رہا ہے، اس پس منظر میں وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی کو سب سے بڑا وجودی خطرہ قرار دیا، انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان جیسے ممالک بار بار دنیا کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ہماری بقا کا سوال ہے، سیلابوں نے ہماری معیشت اور معاشرت کو تباہ کیا، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں بستیاں بہہ گئیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، لیکن یہ مسئلہ محض پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے، کیونکہ اس کی جڑیں صنعتی ممالک کی بے قابو سرگرمیوں میں پیوست ہیں، اس لیے اگر دنیا نے مل کر اس بحران کا مقابلہ نہ کیا تو سب سے بھاری قیمت ترقی پذیر ممالک کو چکانی پڑے گی اور یہ قیمت انسانی جانوں اور تباہ معیشتوں کی صورت میں ہوگی۔شہباز شریف نے واضح کیا کہ ان مسائل کا حل صرف اور صرف کثیرالجہتی (Multilateralism) ہے، آج کے چیلنجز اتنے بڑے اور پیچیدہ ہیں کہ کوئی بھی ملک تنہا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی اپیل کی، جہاں مساوات، انصاف اور تعاون بنیادی ستون ہیں، یہی وہ اصول ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظم محمد علی جناح کے ویڑن کے مطابق کھڑی ہے، پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم طاقت رکھتے ہیں لیکن طاقت کا استعمال ہماری پالیسی نہیں بلکہ ہمارا دفاعی آپشن ہے، ہماری اصل ترجیح امن، برداشت اور باہمی تعاون ہے، یہی توازن پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
خطاب کا ایک اہم پہلو خطے کی صورتحال تھا، جنوبی ایشیا دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے بڑی آبادی آباد ہے، وسائل وافر ہیں لیکن تنازعات نے ترقی کا راستہ روک رکھا ہے، بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام بلکہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہے، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے مشرقی سرحد پر بھارتی جارحیت کا جواب محض اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے دیا، ہماری افواج نے اپنی جرات اور مہارت سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو ایک بڑی شکست سے دوچار کیا، یہ سب کچھ اس اصول کے تحت کیا گیا کہ پاکستان اپنی آزادی اور سالمیت پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے دنیا کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کی پالیسی جارحیت پر مبنی نہیں ہے، ہم کبھی جنگ کو ترجیح نہیں دیتے لیکن اگر ہم پر حملہ ہوا تو  جواب فیصلہ کن ہوگا۔وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ دیرینہ مسائل بالخصوص کشمیر کے مسئلے پر بھی دنیا کو یاد دہانی کرائی کہ جنوبی ایشیا میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت نہیں دیا جاتا، انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق ملے، اس تناظر میں  میاں محمد شہباز شریف نے یہ حقیقت بھی اجاگر کی کہ جنوبی ایشیا میں امن کے بغیر دنیا کے دیگر حصوں میں امن ادھورا ہے۔خطاب کا ایک غیر معمولی اور تاریخی پہلو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرنا تھا، پاکستان نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ کی ثالثی نے ایک ممکنہ بڑی جنگ کو ٹال دیا، اگر اس وقت جنگ بندی نہ ہوتی تو جنوبی ایشیا ایٹمی تصادم کی طرف بڑھ سکتا تھا، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے، اسی لیے پاکستان نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان امن قائم کرنے والوں کی قدر کرتا ہے، یہ اقدام پاکستان کی امن پسندی اور سفارت کاری کے عزم کی جھلک ہے۔یہ خطاب سفارتی اعتبار سے پاکستان کا اصل مقدمہ دنیا کے سامنے لے کر آیا، وزارتِ خارجہ نے بعد ازاں کہا کہ وزیراعظم کا خطاب پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان دنیا کو باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے جو اپنی فوجی قوت کے باوجود امن کو ترجیح دیتی ہے، جو اپنی طاقت پر نازاں ہونے کے ساتھ ساتھ سفارت کاری اور مکالمے پر یقین رکھتی ہے، پاکستان کے لیے امن کوئی وقتی ضرورت نہیں بلکہ ایک مستقل پالیسی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خطے کی ترقی امن کے بغیر ممکن نہیں، اگر بھارت اور پاکستان اپنے دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر لگائیں تو خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب بھارت اپنی جارحانہ پالیسی ترک کرے اور مذاکرات کے راستے پر آئے۔وزیراعظم نے یہ نکتہ بھی اجاگر کیا کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی بلکہ کثیر قطبی ہو چکی ہے، طاقت کے نئے مراکز ابھر رہے ہیں اور ایسے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ مل کر اپنی اجتماعی آواز بلند کریں، پاکستان اس آواز کا ایک اہم حصہ ہے اور چاہتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو عالمی سطح پر سنا جائے، اسی لیے پاکستان نے جنگ جیت لی لیکن اب امن کی جیت چاہتا ہے، یہ جملہ محض ایک اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی سوچ اور ویڑن کی عکاسی ہے، ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اپنی سرزمین کا دفاع کیا لیکن امن کی کوششوں میں بھی پیش پیش رہے۔یہ خطاب دنیا کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا کہ پاکستان صرف اپنے مسائل نہیں اٹھا رہا بلکہ عالمی مسائل پر بھی آواز بلند کر رہا ہے، چاہے وہ ماحولیاتی تبدیلی ہو، دہشتگردی ہو یا عالمی قوانین کی خلاف ورزی، پاکستان نے ہر معاملے پر ایک اصولی مؤقف اپنایا ہے اور یہی اصولیت پاکستان کو عالمی سطح پر ایک معتبر ملک بناتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس خطاب کو ایک "سفارتی دستاویز" قرار دیا جا رہا ہے جو آنے والے برسوں تک پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرتی رہے گی۔اخر میں وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کو یہ یاد دلایا کہ پاکستان جنگ نہیں امن چاہتا ہے، طاقت نہیں بلکہ اعتماد کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے، جارحیت نہیں بلکہ تعاون کا راستہ اپنانا چاہتا ہے، اگر عالمی برادری پاکستان کے ہاتھ کو تھام لے تو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں امن اور خوشحالی کے نئے در وا ہو سکتے ہیں، یہ خطاب اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اپنی فوجی طاقت کو دفاع تک محدود رکھتا ہے لیکن امن کے لیے اپنی سفارت کاری کو ہر حد تک لے جانے کو تیار ہے، یہی وہ پیغام ہے جو جنرل اسمبلی کے فلور سے اٹھا اور دنیا بھر میں گونجا اور یہی وہ پیغام ہے جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔