ارشد مہدی جعفری
گزشتہ دو ہفتوں کی پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں جو کچھ رونما ہو رہا ہے، وہ محض سرحدی جھڑپیں یا چند روزہ کشیدگیاں نہیں رہیں۔ کابل میں پاکستانی فضائی کارروائی نے ایک ایسا پیغام بھیجا ہے جس نے طویل المدتی دفاعی اور روایتی پالیسیوں میں تبدیلی کا راستہ کھول دیا۔ وہ پالیسی جو برسوں تک ‘‘مدافعانہ طرزِ جنگ’’ کہلائی، اب اس مرحلے میں داخل ہے جہاں حدود صرف دفاع تک محدود نہیں رہیں گی۔ اگر دشمن پرانا کھیل جاری رکھتا ہے تو پاکستان اب سرحد کے پار جا کر بھی جواب دینے کی صلاحیت اور عزم دکھانے کو تیار ہے۔ یہ تبدیلی کسی جذباتی رنگ میں نہیں بلکہ سنجیدہ محاسبات اور طویل قربانیوں کے بعد آئی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان نے جو جانی و مالی نقصان برداشت کیا، وہ محض اعداد و شمار نہیں، ایک پوری قوم کی قیمت ہے۔ لاکھوں متاثرہ گھرانے، سینکڑوں شہید جوان، اور معیشت پر ایسی گہری ضرب جو برسوں تک محسوس کی جائے گی۔ اسی پس منظر میں یہ احساس ہوا کہ ہم اب اسی سطح کی تکرار برداشت نہیں کریں گے جس میں ہماری زمین کو بطور اڈہ استعمال کر کے دشمن ہمارے خلاف سازشیں کرتا رہے۔
تاریخ کو دیکھیں تو سوویت اتحاد کے خلاف جدوجہد میں افغان مجاہدین اور ان کے رہنما جنہوں نے پاکستان سے تعاون لیا، وہ اپنی وفاداری میں مخلص رہے۔ پاکستان میں ایک عام تاثر کے مطابق استاد سیاف، گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود، جلال الدین حقانی اور ملا عمر جیسے سابق طالبان رہنمائوں نے پاکستان کے ساتھ تعلق کو برقرار رکھا۔ مگر آج کے طالبان کی نئی قیادت میں وہ مخصوص وفاداری کہیں دکھائی نہیں دیتی، بلکہ ان کے ذہنوں میں ‘گریٹر افغانستان’ کے نظریات وہاں کے کچھ ملیشیائی یا بیرونی اثرات کے زیرِ اثر نظر آتے ہیں جن کا فائدہ بعض طاقتوں کو پہنچتا نظر آتا ہے۔ اس بدلتے ہوئے فکری منظرنامے نے پاکستان کو سخت موقف اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بین الاقوامی سیاست کا میدان روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ امریکا کی نئی اقتصادی پالیسیاں، چین کے ساتھ کشمکش، اور جنوبی ایشیا میں تجارتی و عسکری دباؤ نے سب کا توازن بدل دیا ہے۔ امریکا کے ساتھ جو معدنیاتی اور اقتصادی معاہدے پاکستان نے حاصل کیے ہیں، اور سعودی عرب کے ساتھ جو دفاعی و سیکیورٹی شراکتیں قائم ہیں، وہ اہم اثاثے ہیں۔ مگر ان معاہدوں کی قدر اسی وقت مؤثر رہے گی جب بیرونی حالات اور اندرونی استقامت ساتھ ہوں۔ موجودہ بین الاقوامی ساز و سامان اور ممکنہ محاذ آرائی کے تناظر میں یہ امکانات ہیں کہ کچھ خارجی معاہدے اپنی حرارت کھو سکتے ہیں یا اْن کے اثرات کمزور پڑ سکتے ہیں۔ اس کا انحصار بڑی طاقتوں کی پالیسیوں، خطے میں جاری صف بندیاں اور ہمارے اپنے داخلی اتحاد پر ہوگا۔
ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ خطے کو اشتعال میں رکھے جانے کی حکمتِ عملی ابھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئی، مگر اس کے آثار نمایاں ہیں۔ ممکنہ طور پر کچھ قوتیں چاہتی ہوں کہ پاکستان اور افغانستان کو مصروف رکھا جائے، تاکہ وہ ایران یا مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی کسی بڑی
کشیدگی میں براہ راست مداخلت نہ کر سکیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جیرالڈ فورڈ ائیرکرافٹ کیرئیر اور درجنوں امریکی طیاروں کی آمد، روسی کارگو جہازوں کا ایران اترنا، اور ایرانی فضاؤں میں لڑاکا طیاروں کی سرگرمیاں وغیرہ یہ سب محض فوجی حرکات نہیں لگتیں، بلکہ ایک بڑی شطرنج کا حصہ ہیں جہاں ہر ملک اپنے مفاد کے مطابق چال چل رہا ہے۔
اس تمام منظرنامے میں پاکستان نے جو نیا موقف اختیار کیا ہے، وہ واضح طور پر اس حقیقت پر مبنی ہے کہ اب خاموشی برداشت کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ اگر سرحد پار بیٹھ کر منصوبہ بندی کی جاتی ہے، تو جواب وہاں دیا جائے گا۔ کابل حملے کے بعد جو بیانیہ شروع ہوا، اس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے ٹھکانوں کو جہاں بھی پایا جائے نشانہ بنایا جائے گا۔ اسی پالیسی کا تسلسل یہ ہے کہ سرحدی چوکیوں اور کنٹرول پوائنٹس کی بقا اور ان پر عملداری کی کوششیں تیز ہوئی ہیں، یہ سب اس نئی قابل فہم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جسے عوامی اور عسکری سطح دونوں پر سمجھنا ہوگا۔ لیکن یہ صرف عسکری جنگ کی کہانی نہیں، یہ اندرونی استحکام کا چیلنج بھی ہے۔ پاکستان کو اب اپنی داخلی وحدت، معاشی بحالی اور سیاسی ہم آہنگی کو مضبوط کرنا ہوگا۔ دشمن چاہے جتنا بھی ساز و سامان لے کر آئے، اگر قوم میں اتحاد اور حکمت عملی میں یکسوئی ہو تو ہر چیلنج کا مقابلہ ممکن ہے۔
تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ جب بھی بیرونی دباؤ بڑھا، ہمارے اندرونی اختلافات نے کم از کم وقتی طور پر ہمیں نقصان پہنچایا، اب وقت ہے کہ سیاسی سفارت کاری، دفاعی حکمتِ عملی اور اقتصادی استحکام کو ایک ہی روڈمیپ میں لایا جائے۔ یہاں پر اصلاح کا موقع بھی ہے، طاقت دکھانے کے ساتھ ساتھ حکمت کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ پاکستان جارحیت کا خواستگار نہیں، مگر اپنی سرحدوں، اپنے عوام اور اپنے وقار کا دفاع حقِ مسلمہ سمجھتا ہے۔ ہمیں یہ پیغام واضح طور پر دینا ہوگا کہ ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں، مگر جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتی، دانش، دیانت اور قومی اعتماد کے ذریعے بھی جیتی جاتی ہے۔ اگر ہم داخلی اتحاد کو مضبوط رکھیں، اپنی خارجہ پالیسی میں چالاکی دکھائیں، اور اپنے عوام کے مفادات کو مقدم رکھیں تو یقیناً یہ ملک کسی بھی بیرونی سازش یا محاذ کا مقابلہ مؤثر طریقے سے کر سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انتخاب کس کی قومیت اور قومی قیادت کرے گی۔ اگر ہم تیزی سے ہونے والی بین الاقوامی تبدیلیوں، تجارتی دباؤ اور فوجی حرکات کو صرف خوف یا غصے کی نظر سے دیکھیں تو راستہ مشکل ہوگا۔ مگر اگر ہم اپنی تاریخی پوزیشن، علاقائی مفادات اور آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لیے دور اندیشی کے ساتھ کام کریں تو یہی وہ پل ہے جب پاکستان اپنی سالم حکمتِ عملی کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ ہم نے تاریخ میں بڑی آزمائشیں جھیلی ہیں اور ہر بار ثابت کیا ہے کہ جب قوم کے اندر حوصلہ ہو تو بیرونی فتنوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ دور تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی سفارت کاری کو تیز کریں، اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنائیں، اور ساتھ ہی داخلی معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کریں۔ دشمن چاہے کتنے بھی خطوط کھینچے، اگر پاکستان قومی وحدت اور حکمت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو تو وہ دنیا کو بتا سکتا ہے کہ اس کی سلامتی اور عزت کسی بھی بیرونی سازش کا شکار نہیں بننے دیں گے۔ ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں، اور اسی ڈٹ پن کے ساتھ ہم امن کا راستہ بھی تلاش کریں گے جو کہ ہماری سابقہ روش ہے۔ طاقت کے ساتھ حکمت، حوصلے کے ساتھ سوچ۔ یہی وہ امتزاج ہے جو ہمیں آئندہ طوفانوں میں کامیاب کر کے نکالے گا۔