طاقت کی بساط اور حکمت کا امتحان

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
ایران اورامریکاکے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظرمیں پاکستان کیلئیپالیسی آپشنزاوراسلامی دنیاکے ممکنہ ردِعمل کاجامع تجزیہ پیش کرنے کامقصدفیصلہ سازاداروں کوایسے قابلِ عمل راستے مہیاکرناہے جوپاکستان کوجنگی الجھاسے محفوظ رکھتے ہوئے علاقائی استحکام،داخلی سلامتی اورسفارتی ساکھ کومضبوط کریں۔سفارشات کامحورغیرجانبدارانہ حقیقت پسندی، فعال سفارت کاری،دفاعی تیاری (بلا شرکتِ جنگ)اوراسلامی دنیامیں ثالثی کومدنظررکھتے ہوئے لکھی گئی ہیں۔
پاکستان اس ممکنہ تصادم میں براہِ راست فریق نہیں،مگراس کی جغرافیائی حیثیت ایران کی ہمسائیگی،افغانستان سے قربت،خلیجی راستوں تک رسائی اسے ناگزیرطورپراس بحران کے دائرہ اثرمیں لے آتی ہے۔پاکستان ایران کی ہمسائیگی،افغانستان کے پس منظر، خلیجی راستوں اوربڑی طاقتوں کے مفادات کے سنگم پرواقع ہے۔کسی بھی عسکری تصادم کی صورت میں ثانوی اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی ومعیشت پرمرتب ہوسکتے ہیں۔
بحرِہندمیں یوایس ایس ابراہم لنکن کی موجودگی محض بحری نقل وحرکت نہیں،بلکہ عالمی سیاست کی اس زبان میں ایک جملہ ہے جو توپوں سے لکھاجاتاہے۔اگرچہ امریکی صدرکی جانب سے حتمی فیصلے کی عدم موجودگی وقتی تؤقف کاتاثردیتی ہے،مگرتاریخ شاہدہے کہ طاقتورریاستیں اکثرفیصلہ کرنے سے پہلے ہی فضاکوفیصلے کے قابل بنالیتی ہیں۔انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپ کی مشرقِ وسطی میں موجودگی ایک ایسے شطرنجی بساط کی مانندہے جہاں ہرمہرہ اپنی جگہ پرضرورہے،مگربازی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ امریکی کیریئر کابحرِہندمیں ہونابظاہرایران کے قریب ترامریکی عسکری گرفت کی علامت ہے،تاہم تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سمندرمیں لنگراندازدیوہیکل جہازبھی ہمیشہ فیصلہ جنگ کااعلان نہیں کرتے۔یہ تعیناتی ایران پرنفسیاتی دباؤاور خطے کوعسکری اضطراب میں رکھنے کی دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔
ٹرمپ کے بیانات اس ابہام کومزیدگہراکرتے ہیں’’غوروفکرجاری ہے‘‘،مگرفیصلہ ابھی تقدیرکے پردے میں ہے۔امریکی کیریئرگروپ سینٹ کام کے دائرہ اختیارمیں ہے۔فوری حملہ ضروری نہیں،مگرریپڈرسپانس کی صلاحیت بڑھادی گئی ہے۔یہ تعیناتی ایران کوسگنل دینے اوراتحادیوں کویقین دہانی کرانے کیلئے ہے۔پاکستان،خلیجی ریاستیں اوربھارت اس پیش رفت کوسیکیورٹی الرٹ کے طورپردیکھ رہے ہیں۔
یہ گروپ جدیدجنگی فلسفے کاچلتاپھرتامظہرہے جہاں آسمان،سمندراورالیکٹرانک اسپیس ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔کیریئر اسٹرائیک گروپ دراصل جدیدعسکری طاقت کاچلتاپھرتااستعارہ ہے:طیارہ بردارجہازاس کادل،میزائل کروزراس کی آنکھ،اورڈسٹرائراس کی ڈھال ہیں۔فضائی،نیول اورمیزائل ڈیفنس سے لیس یہ جنگی کیرئیرمکمل فضائی برتری کاحامل نیٹواورخلیجی اتحادی ممالک پرایک شدیددباؤکے طورپرخطے میں شدیدتشویش کاباعث بن چکاہے کہ خطے میں اس کی بھاری سیاسی لاگت ناقابل برداشت بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اتحادیوں کادباؤاس امرکی یاددہانی ہے کہ طاقت کے اظہاراورطاقت کے استعمال کے درمیان ایک نازک مگرفیصلہ کن فاصلہ ہوتا ہے۔اتحادیوں کی جانب سے جنگ سے باز رہنے کامشورہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ عسکری طاقت کی نمائش ہمیشہ سیاسی دانش کے تابع رہنی چاہیے۔
ایران کی گلیاں اورچوراہے اس وقت تاریخ کے خونچکاں ابواب رقم کررہے ہیں۔ایران کی سڑکیں اب صرف احتجاج کانہیں،تاریخ کے کرب کانقشہ بن چکی ہیں۔ہزاروں جانوں کاضیاع کسی بھی ریاست کیلئے محض داخلی معاملہ نہیں رہتایہ بین الاقوامی ضمیرکوآوازدیتا ہے،اوربیرونی مداخلت کیلئے اخلاقی جوازپیداکرتاہے۔مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں بڑھتی ہلاکتیں ایک ایسانوحہ ہیں جو انسانی ضمیرکوجھنجھوڑتاہے اوراس معاملہ کوامریکااوریورپی ممالک انسانی حقوق کی بحران کی طرف موڑرہے ہیں جہاں ہلاکتوں کے خوفناک اعدادوشماراقوام عالم کے سامنے رکھے جارہے ہیں۔اعدادوشمار،چاہے زیرِجائزہ ہوں یامصدقہ،اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ریاست اورعوام کے درمیان خلیج خطرناک حدتک وسیع ہوچکی ہے۔ہلاکتوں کے اعدادوشمارکوجوازبناکریورپ اورامریکاانسانی حقوق کے چیمپئن بن کرمداخلت کوجائزبناسکتے ہیں۔
ٹرمپ کی زبان میں بیک وقت دھمکی اوردعوتِ گفتگوکاامتزاج امریکی خارجہ پالیسی کے اس دورخی مزاج کی عکاسی کرتاہے اوریہ امریکی خارجہ پالیسی کاپراناہنرہے ،ایک ہاتھ میں لاٹھی،دوسرے میں مصافحہ،جوکبھی تلواردکھاتاہے اورکبھی زیتون کی شاخ۔ٹرمپ کی زبان میں دھمکی اوردعوت کایہ امتزاج دراصل طاقت کے توازن کواپنے حق میں رکھنے کی کوشش ہے۔ہم کاروبارکیلئے کھلے ہیں کاجملہ بظاہر سفارت کاری کی پیشکش ہے،مگراس کے پسِ منظرمیں طاقت کی بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایران سے اپنی پیشگی شرائط منوانے کیلئے مذاکرات پرلانے کی کوشش اوربیک ڈورڈپلومیسی کاایک نیاباب کھولنے کااشارہ ہوجویقینا ایرانی صدرکی سعودی ولی عہدکے ساتھ حالیہ فون پرگفتگوکے بعد شروع ہونے پرآمادگی کااظہارہو۔
نمازِجمعہ کے منبرسے دی گئی وارننگ میں مذہب،ریاست اور مزاحمت ایک ہی آوازمیں بولتے نظرآتے ہیں اورصاف دکھائی دیتاہے کہ جمعہ کے خطبے میں امریکاکومخاطب کرنااس امرکی دلیل ہے کہ ایران میں مذہب اورریاست ایک ہی اسکرپٹ پڑھتے ہیں۔یہ وہ زبان ہے جوایران کی سیاسی ثقافت میں گہرائی سے پیوست ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ ایرانی اقدام گھریلوحوصلے کی تعمیرکے ساتھ ساتھ ممکنہ ایک مذہبی جوازبناکرامریکااوراتحادیوں کے خلاف نفسیاتی جنگ کااعلان ہوجس میں ایرانی بیانیے کو کامیابی ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ایرانی بیانیے کی سختی دراصل دفاعی عزم کی لفظی ڈھال ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان کالب ولہجہ اورالفاظ میں جواعتمادجھلکتاہے، وہ یہ پیغام دیتاہے کہ جنگی جہازوں کی آمد و رفت سے قومی ارادے متزلزل نہیں ہوتے۔ایران کایہ ردعمل،اسٹریٹجک پیغام رسانی،میزائل ڈیٹرنس اورفوجی تیاری معلوم ہوتاہے کہ وہ ایسی قوم کی آوازہے جوجنگ سے خوف زدہ نہیں،بلکہ اسیاپنی بقاکی قیمت سمجھتی ہے۔  
ہرجنگ اپنے بعدایک نئی جنگ کی تیاری چھوڑجاتی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تصادم ایران کیلئے عسکری تجربہ گاہ ثابت ہوا۔جون کی بارہ روزہ جنگ کے بعدایرانی فوج کے دعوے تاریخ کے اس تسلسل کی یاددہانی ہیں جس میں ہرتصادم اگلے مرحلے کی تیاری بن جاتاہے۔ میزائلوں اورڈرونزکی بارش صرف عسکری کارروائی نہیں تھی،بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی تھا کہ حساب ابھی باقی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران نے اس جنگ کے بعد اپنے میزائل پروگرام کومزیدمضبوط اورترقی دیتے ہوئے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی میں مزیدمہارت اور صلاحیت حاصل کرنے کے بعد اپنی جنگی تیاریوں کی رفتارمیں خاصی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ 
ایران کی اصل طاقت اب توپ سے زیادہ ٹیکنالوجی میں ہیخاموش، دوررس اورمہلک ہتھیاروں کے استعمال میں ان کی مہارت اور تیاری اس بات کی دلیل ہے۔علاوہ ازیں ایران کامیزائل ذخیرہ اورڈرون نیٹ ورک اس کی عسکری حکمتِ عملی کاستون ہیں۔سرحدوں سے باہران کی موجودگی اس امرکی علامت ہے کہ جدیدجنگ اب جغرافیے کی قیدسے آزاد ہو چکی ہے۔میڈیم رینج بیلسٹک میزائل اورانٹررینج بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی جوزیادہ ترغیرروایتی وارہیڈزسے لیس ہے،اب ممکنہ جنگ میں ایران اپنے دفاع کیلئے استعمال کرنے سے گریزنہیں کرے گا۔یادرہے کہ یہ نظام چین،شمالی کوریا،ایران،بھارت اورپاکستان کے پاس بھی موجودہے۔علاوہ ازیں اس غیرمتناسب جنگی فائدے کیلئے یواے وی ٹیکنالوجی کوبھی میدان میں لایاجائے گاجس کے بعدجنگ کی صورت میں کرہ ارض پرخوفناک تباہی کاوہ سفرشروع ہوسکتاہے جوکسی بھی عالمی جنگ کاآغازبننے کیلئے کافی ہے۔
خاتم الانبیاہیڈکوارٹرکے کمانڈرکابیان ایک کھلااعلان ہے کہ جنگ کی صورت میں دائرہ تصادم محدودنہیں رہے گا۔یہ وہ نقطہ ہے جہاں دفاع،پیش بندی میں بدل جاتاہے۔یہ اعلان دراصل جنگ کوخطے کی دہلیزتک کھینچ لانے کی دھمکی ہے جہاں ہرامریکی مفادایک ممکنہ ہدف ہے۔گویاعراق،اورخلیج میں تمام امریکی اڈے اب ایرانی حملوں کے خطرے سے ازاد نہیں جس کیلئے یقیناامریکا اورمغرب کوان اڈوں کے تحفظ کیلئے ایک غیرمعمولی فورس کی ضرورت ہوگی اوراس صورتحال میں امریکااورمغرب پرجنگ کابے پناہ مالی دبا ؤان ملکوں کی جاری معیشت کوبے شمارمشکلات میں مبتلاکردے گا۔
ایرانی حکام کی وارننگزخطے کے اتحادیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔خلیج کے عرب ممالک کی جانب سے واشنگٹن پردباؤاس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ جنگ کاایندھن اکثراتحادیوں کی سرزمین سے لیاجاتاہے،اتحادی اکثرطاقتوردوستوں کی جنگ میں سب سے پہلے جلتے ہیں مگربعدازاں آگ سب کولپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے اس خطرہ کے تدارک کیلئے خلیجی ریاستیں اس ممکنہ امریکی حملے کوروکنے کیلئے شب وروز لابنگ میں مصروف ہیں تاکہ خطے سے  اس ممکنہ خوفناک جنگ کے شعلوں کوبھڑکنے سے پہلے خاموش کردیاجائے۔
علاقائی پراکسیوں کاجال ایران کی اسٹریٹجک گہرائی کاحصہ ہے۔یہ ایران کاخاموش لشکرہے جوبظاہر غیرریاستی ہے مگرریاستی مقاصدکاامین ہے۔(جاری ہے)