اسمِ اللہ، کلمہ طیبہ اور سورۃ العصر میں مماثلت — ایک فکری تجزیہ۔

 امجد علی
       توحید کا تصور دنیا کے تمام آسمانی ادیان میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، مگر قرآنِ حکیم میں یہ تصور جس جامعیت، وضاحت اور معنوی گہرائی کے ساتھ بیان ہوا ہے، وہ انسانی عقل و قلب کو ایسا نور عطا کرتا ہے جو باطن کے اندھیروں کو منور کر دیتا ہے۔ قرآن میں توحید کے تین نمایاں مظاہر ایسے ہیں جو اس فکر کو مختلف جہات سے مکمل کرتے ہیں۔ اس فکرِ توحید کو تین جہات سے مکمل کرتے ہیں۔ ذات، قول اور عمل۔ گویا قرآن توحید کو صرف ماننے یا کہنے کا نہیں، جینے اور برتنے کا نام ٹھہراتا ہے۔
       اسمِ "اللہ"، کلمہ طیبہ، اور سورت العصر۔ یہ تینوں، اگرچہ ساخت میں مختلف، مگر معنوی لحاظ سے ایک دوسرے کی تفسیر اور تکمیل ہیں۔ یہ انسانی شعور کو وجود، عقیدہ اور عمل کی وحدت میں پرو کر ایک کامل نظامِ فِکر عطا کرتے ہیں۔
اسم "اللہ" --
      یہ محض ایک اسم نہیں، بلکہ کائناتی حقیقت کا مرکز اور عرفانی فلسفے کا نکتہ آغاز ہے۔ لفظ "اللہ" کے حروف میں ایک پوشیدہ ترتیبِ معانی ہے:
"الف" ابتدا، ظہور، نمود۔ مگر ہر ظاہر چیز زمان و مکان کی قید میں ہے اور لازمی طور پر فانی ہے۔ ظاہر کو جز وقتی حیات کی وجہ سے مٹنا ہوتا ہے۔ 
"لام" نفی، انکار۔ یہ ہر غیر حقیقی، غیر ابدی وجود کا رد ہے۔
"ہ" حقیقتِ باقی، باطن، ماورائی وجود جو لا زوال ہے یعنی "ھْوَ"۔
یوں اسمِ "اللہ" درحقیقت نفی و اثبات کا مجمل، مگر پرمعنی کلام ہے۔
جب "الف" (ظاہر) اور "لام" (نفی) باہم جمع تفریق کے بعد ختم ہوتے ہیں تو صرف "ھْوَ" باقی بچتا ہے، وہی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
      یہ فکری نقطہ حضرت ابراہیم? کے قصے میں عملی صورت میں سامنے آتا ہے، جب انہوں نے سورج، چاند، اور ستارے جیسے روشن اور دلکش مظاہر کو دیکھا تو سوچا، شاید یہی میرے رب ہیں۔ لیکن جب وہ سب ڈھل گئے، چھپ گئے، فنا ہو گئے، تو آپ? نے اعلان کیا: "جو غائب ہو جائے، وہ میرا رب نہیں ہو سکتا۔ یہ عرفان ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ وہی ہے جو "لا زوال" ہے، جس پر فنا کا کوئی سایہ بھی نہیں پڑتا۔ یہی عرفان ہمیں سکھاتا ہے کہ جو باقی ہے، وہی رب ہے، وہی "اللہ" ہے۔ 
لا الٰہ الا اللہ:     کلمہ طیبہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ انسان کی داخلی و خارجی آزادی، روحانی خودی، اور فکری انقلاب کا منشور ہے۔ یہ صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک انقلاب ہے۔یہ کلمہ دراصل ایک داخلی ہجرت ہے باطل سے حق کی طرف، کثرت سے وحدت کی طرف۔ یہ کلمہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ 
"لا الٰہ"  ہر جھوٹے خدا، ہر وقتی اقتدار، اور ہر خود ساختہ اقتدار کی مکمل نفی ہے۔ یہ معرفت کی وہ تلوار ہے جو دل میں چھپے بتوں کو کاٹ ڈالتی ہے۔ یہ ایک فکری تطہیر، ایک نفی جو باطل خداؤں کو رد کرتی ہے۔ جیسے زمین کو قابلِ کاشت بنانے سے پہلے اس میں سے جنگلی نباتات، خود رو گھاس پھونس کو نکالا جاتا ہے، ویسے ہی دل سے جھوٹے معبودوں کی جڑیں کاٹنا لازم ہے۔ ضروری ہے کہ دل کی زمین پر پھیلے خواہشات کے جنگل کا نفی سے صفایا کیا جائے۔
"الا اللہ": وہ اثبات جو ہر نفی کے بعد ابھرتا ہے۔ یہ اثبات کے میٹھے پانیوں کا بہتا ایک بے کنار سمندر ہے۔ یہ سرتسلیم خم کرنا نہیں، بلکہ خودی کی پرواز ہے ایک باطن کی بلندی، ایک روحانی معراج ہے۔ یقیناً، یہی کلمہ ہے جو انسان کو سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ دیتا ہے۔ دنیا کے ہر جھوٹے سہارے سے بے نیاز ہو کر صرف ایک ذات پر بھروسہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
       یہ کلمہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصلی منفعت حقیقت تک رسائی ہے جو انکار سے شروع ہو کر اثبات پر مکمل ہوتی ہے۔  جس زمین سے پہلے خود رو بوٹیوں کو کاٹ کر صفائی کی گئی تھی اس پر محنت کی جائے، ہل چلایا جائے، پانی دیا جائے بیج بویا جائے رکھوالی کی جائے پھر وہی زمین فصلوں سے لہلہانے لگتی ہے خوبصورت رنگوں خوشبوؤں اور ہریالی کو زیب تن کر لیتی ہے۔ سج سنور جاتی ہے۔ مہک اٹھتی ہے۔ ہر نظر کو خیرہ کرنے لگتی ہے۔ یہی تو اثبات کی تکمیل ہے۔ فصل ہوئی مگر خود رو نہیں مالک کی مرضی کی فصل، جو معبود برحق کا بلواسطہ یا بلا واسطہ اقرار ہے۔
کلمہ طیبہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ انسان کی داخلی و خارجی آزادی، روحانی خودی، اور فکری انقلاب کا منشور ہے۔ اس پورے نظام میں توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک ادراک، ایک انتخاب، ایک التزام ہے۔
یہ صرف اللہ کی حاکمیت کا اقرار، اس کی وحدانیت کا اثبات، اور اس کے سوا ہر شے کی بندگی سے انکار ہے۔ یہ کلمہ انسان کو آزادی دیتا ہے، نہ کسی فرعون کا بندہ، نہ کسی خواہش کا غلام، نہ کسی مخلوق کا پجاری۔ اس کلمے کا اقرار گویا ایک داخلی انقلاب ہے، جو انسان کو "عبد" سے "آزاد بندہ" بناتا ہے، بشرطیکہ وہ خود کو مکمل طور پر اللہ کی اطاعت میں دے دے۔
سورت العصر۔۔۔ کلمہ طیبہ کا عملی منشور ہے۔
       قرآن کی یہ سورت صرف تین آیات پر مشتمل ہے، مگر اپنی معنوی گہرائی میں پورے قرآن کا نچوڑ ہے۔ یہ پورے قرآن پاک کا عطر ہے۔ یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا بحران "خسارہ" ہے۔ یعنی مقصدِ زندگی سے محرومی، منزل سے چشم پوشی، وقت کا زیاں، اور راہِ حق سے روگردانی۔ یہ خسارہ ہی وہ راستہ ہے جو جہنم تک لے جاتا ہے۔ یہ سورت دراصل کلمہ طیبہ کی عملی تشریح ہے۔ جس کے جزو نیچے بتائے گئے ہیں۔
"ایمان"  یعنی "الا اللہ" کا اقرار۔
"عملِ صالح"  یعنی اس اقرار کے مطابق زندگی گزارنا۔
"تواصوا بالحق"  دوسروں کو بھی اسی سچائی کی طرف بلانا۔
"تواصوا بالصبر"  اس راہ میں ملنے والی تکالیف پر صبر کرنا۔
یہ چار صفات وہ ہیں جو انسان کو "خسارے" سے بچاتی ہیں۔ اور خسارے میں کون لوگ ہیں؟ وہی جو توحید، نبوت اور کلمے کی نفی کرتے ہیں، وقت کو کھیل تماشے میں ضائع کرتے ہیں، خواہشات کے غلام بن کر باطل معبودوں کی پیروی کرتے ہیں۔ 
     انسانی تاریخ کی سب سے بڑی گمراہی یہی رہی ہے کہ انسان نے مٹی کے پتلے، اپنے جیسے بندوں، خواہشات، حکمرانوں، اور حتیٰ کہ اپنے نفس کو معبود بنا لیا۔ قرآن ان سب کی نفی کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
"کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟" (الفرقان: 43)

      حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ اسی کلمے اور سورت کی دوگانہ تصویر کشی ہے۔ ایک کنویں سے نکل کر تخت پر بیٹھنے والا وہی شخص ہے جس نے ہر مقام پر صرف اللہ کی اطاعت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بلندی بخشی، اس کے مخالفوں کو اس کے سامنے جھکایا، اور دنیا کو دکھایا کہ "جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی کامیاب ہے۔" اور جو غیر اللہ کو پوجے، وہ خسارے میں رہتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
"بیشک وہ لوگ خسارے میں رہے جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا۔" (الزمر۔)
       یہ چاروں اجزاء￿  دراصل کلمہ طیبہ کی عملی تفسیر ہیں۔ جو "لا" سے جھوٹے معبودوں کا انکار کرے، اور "اللہ" کے حق کو مانے، وہی ایمان لاتا ہے، نیک عمل کرتا ہے، حق کی بات کہتا ہے اور مشکلات پر صبر کرتا ہے۔ نفی اثبات ایک ہمہ گیر فکری وحدت ہے
اسمِ "اللہ" ہمیں بتاتا ہے:
"جو ظاہر ہے وہ فانی ہے، اور جو باطن ہے وہی باقی ہے۔"
کلمہ طیبہ سکھاتا ہے:
"باطل کی نفی اور حق کا اثبات ہی اصل عقیدہ ہے۔"
سورت العصر واضح کرتی ہے:
"ایمان اور صبر پر مبنی عمل ہی وہ راہ ہے جو انسان کو خسارے سے بچاتی ہے۔"
یہ تینوں-- اسمِ اللہ، کلمہ طیبہ، اور سورت العصر، مل کر اسلامی فکر کا وہ ہمہ گیر نظام تشکیل دیتے ہیں جو انسان کو صرف ایک مقلد نہیں بلکہ باشعور، باوقار اور باعمل مومن بننے کی طرف بلاتا ہے۔ یہ انسان کو صرف عبد نہیں بلکہ ایک آزاد، باشعور اور باعمل بناتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہی وہ توحید کا عملی فلسفہ ہے جو انسان کو عبدیت کی گہرائیوں سے نکال کر آزادی، شعور، اور نجات کے عروج پر لے جاتا ہے۔ یہ تینوں باہم مل کر انسان کو ایک ایسا مکمل وجود بناتے ہیں جو وقت میں رہتے ہوئے ماورائے وقت کو جان لے اور یہی انسان کی اصل معراج ہے۔
والل? ?علم