سورہ العصر۔۔۔ایک آفاقی پیغام

 امجد علی
        قرآنِ حکیم کا ہر باب ایک جاودانی صدا ہے، جو دل کے نہاں خانوں کو بیدار کرتی، اور روح کے دریچوں پر ابدی اجالے بکھیرتی ہے۔ مگر بعض سورتیں ایسی ہیں جو اپنے اختصار میں بھی صدیوں کے فکر و تدبر اور حکمت و عرفان کا ایک بحرِ بیکراں سمیٹ لیتی ہیں۔ انہی گراں قدر لعل ہائے آبدار میں سورہ العصر اپنی سحر انگیز معنویت کے ساتھ ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ تین آیات کی یہ چھوٹی سی سورہ گویا پوری انسانی تقدیر کا خلاصہ ہے وقت کی عظمت، انسان کے خسارے کی تلخ حقیقت، اور نجات کی ابدی راہوں کا ایک درخشاں منشور ہے۔ سورت عصر کی گہرائی اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے امام شافعی رحمہ اللہ کا فرمان کافی ہے جو سورت کی معنویت کی وسعت اور گہرائی میں بہت زخیم ہونے کی وجہ سے اشار?ً کہا گیا ہے ورنہ قرآن کی ہر آیت اور ہر سورت کا یہی معاملہ ہے۔
 "اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر صرف یہی ایک سورت نازل کرتا تو یہ ان کے لیے کافی ہوتی۔"
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: (نوٹ۔۔آیات کے احترام کو ملحوظ رکھتے سورت کے عربی متن کی بجائے صرف ترجمعہ دیا گیا ہے)
     (1) "قسم ہے زمانے کی!" وقت عصر کی قسم!
      اس آیت میں "زمانہ" اور لفظ "قسم" دونوں عمیق گہرائیوں میں لپٹی معنویت سے لبریز ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے-- زمانہ، وقت وہ کارواں ہے جس کی روانی کبھی تھمتی ہی نہیں، جس کی موجیں ہر خسارے کی روداد اپنے اندر نقش کر لیتی ہیں۔ زمانہ ہی سورت کا موضوع ہے اور پہلی آیت کا محور بھی یہی ہے۔ یہاں سوال اٹھ رہے رہیں اللہ کو قسم کھا کر بات کرنے کی کیا ضرورت  تھی! جب اس کا فرمایا ہوا ہر لفظ درجہء￿  سند رکھتا ہے تو قسم کس لیے! پھر زمانے کی قسم کھائی ہے، زمانے کی یہاں کیا اہمیت ہے۔ اللہ نے والنجم اور والفجر کی قسم بھی کھائی مگر یہ قسمیں کسی بھی لحاظ سے عصر کی اہمیت کے قریب بھی نہیں۔ عصر کا عرصہ وقت کے وسیع و عریض ازل سے ابد کی وسعتوں تک محیط سمندر کو اپنے پہلو میں سمیٹے ہوئے ہے۔ عصر کا مفہوم زمانے کی اْس وسیع تر جہت کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے جو ازل سے لے کر ابد تک پھیلی ہوئی ہے۔ سورہ العصر کے نزول کے وقت کے حالات ہوں یا تاریخ کے مختلف ادوار، انسان کا طرزِ عمل تقریباً یکساں رہا ہے, ظلم، جبر، بربریت، اخلاقی انحطاط اور گمراہی کی روش۔ انبیا کرام نے ہر دور میں اصلاح کی کوشش کی، پیغامِ حق پہنچایا، مگر اکثر نے ہدائیت کو یکسر رد کیا، جس کے نتیجے میں کئی اقوام عذابِ الٰہی کا شکار ہوئیں اور صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں۔ پھر بھی اگلی قوم نے بھی اپنے پچھلوں کی روشنی اختیار کی۔ قرآن ان واقعات کو اپنے مذکور قصص کے ذریعے بار بار یاد دلاتا ہے، لیکن اس کے باوجود انسان اپنی شیطانی روش سے باز نہیں آتا۔ اقبال نے اپنے اس شعر میں وقت کی اہمیت کی تھوڑی سی وضاحت کی ہے۔
تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب صیر فی کائنات۔
مشائخ اکرام اور مفسرین نے سور? العصر میں استعمال ہونے والے لفظ "عصر" کے کئی معانی بیان کیے ہیں۔ بظاہر یہ تین حروف کا چھوٹا سا لفظ ہے، مگر اپنے اندر بے پناہ معنوی وسعت رکھتا ہے۔ عمومی طور پر اس کے تین معروف مفاہیم لیے جاتے ہیں:
1. زمانہ یا وقت 
2. عصر کی نماز--- یعنی دن کے اختتام سے قبل کا مخصوص وقت-- ظہر اور مغرب کی درمیانی نماز
3. حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دور یعنی "عہد رسالت"۔
         اگرچہ لغوی اعتبار سے یہ تمام معانی درست ہیں، تاہم قرآن میں اس لفظ کے انتخاب اور سیاق و سباق سے گہرے معانی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ معتدل مفہوم "نمازِ عصر" کا وقت ہے، جو دن کے اس حصے کی نمائندگی کرتا ہے جب روشنی ڈھلنے لگتی ہے۔ یہی وقت علامتی طور پر ڈھلتی عمر اور زوال کی ابتدا کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
           دن، وقت کی ایک اکائی کے طور پر، کائناتی وقت کی پیمائش کا بنیادی پیمانہ ہے۔ یہ چھیاسی ہزار چار سو لمحوں پر مشتمل سیاہی اور سفیدی کے امتزاج سے بنا ہوا یونٹ ہے، جو روشنی اور تاریکی کے درمیان مسلسل تبدیلیوں کا عکاس ہے۔ یہی دن، وقت کے تسلسل کا پیمانہ بن کر سامنے آتا ہے۔ وقت لمحوں کا ایک بے کنار سمندر ہے۔ ان معنوں میں "عصر" محض ایک وقت کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک تاریخی موڑ، ایک "point in time" ہے، جیسا کہ انگریزی اصطلاح میں کہا جاتا ہے۔ یہ "point in time" نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے پانچویں یا چھٹے سال کا زمانہ ہے، جب سورہ العصر نازل ہوئی۔ اگر ہم اسے ایک پیمائش کا سنگِ میل (landmark) مان لیں، تو یہ لمحہ انسانی تاریخ اور کائناتی وقت کو دو ادوار میں تقسیم کرتا ہے:
1. عہدِ اوّل: ازل سے لے کر بعثت نبوی تک،
2. عہدِ ثانی: بعثت نبوی سے لے کر قیامت تک۔
         اب اگر ہم ریاضیاتی اصولوں کی مدد سے اس کائناتی تقسیم کو سمجھنا چاہیں تو نماز عصر کے وقت کو ایک علامتی بنیاد بناتے ہوئے دن کے اوقات کو مغرب و عصر کے درمیان تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ عصر کے بعد مغرب تک کا وقت دن کے تقریباً 1/24 حصہ بنتا ہے۔ اس طرح دن کا بیشتر حصہ (23/24) عصر سے پہلے کا وقت تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس نسبت کو ہم 23:1 کے تناسب سے بیان کر سکتے ہیں۔
اسی تناسب کو اگر ہم کائناتی زندگی پر منطبق کریں، اور موجودہ sientific نظریات کی روشنی میں مانیں کہ کائنات کو بنے ہوئے تقریباً 4.5 ارب سال گزر چکے ہیں، تو عصر کے وقت پر پہنچنے کا مطلب یہ ہوا کہ کائناتی زندگی کا 91 فیصد حصہ گزر چکا تھا۔ یعنی:
91% of total life = 4.5 billion years
= Total life = 4.95 billion years (تقریباً)
اس کے مطابق کائناتی زندگی کا باقی 9% حصہ اب بھی باقی ہے، جو کہ تقریباً 450 ملین سال (یعنی 45 کروڑ سال) بنتا ہے۔
         اگر ہم بعثتِ نبوی کو اس "عصر" کا آغاز تسلیم کریں، تو ہم اس باقی ماندہ وقت میں سے صرف 1500 سال گزار چکے ہیں۔ یوں ہم ابھی کائناتی اختتام کے بہت ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ لیکن چونکہ بعثتِ نبوی کو ختم النبین کہا گیا ہے، اس لیے اب کسی نئے دور یا "عہد" کا آغاز نہیں ہونا—بلکہ یہی آخری مرحلہ ہے، جو آہستہ آہستہ بتدریج اپنی تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حشر ہونے کا باقیہ وقت بھی کلیکولیٹ کیا جاسکتا ہے اگر ہم محنت اور اصولوں کو بروئے کار لائے۔
     وقت خزانہء￿  الہی, معرفت الٰہی ہے اور اسرار الہی ہے۔ گھڑیال کی گردش اور سوئی کی ٹک ٹک ہر لحظہ نئی حادثہ گری کرتی ہے۔ اس ایک ٹک میں چہار اطراف منظر بدل جاتے ہیں۔ ہر پل بیشمار اعلی، خوشنما اور سیاہ بربریت الودہ اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ جس طرح دریا میں پانی اپنی تہوں میں سونے اور ریگ کے ذرات کو مسلسل چھان کر الگ کرتا رہتا ہے۔ بعینہ زندگی  ہر گذرتے سانس میں عرصہ کم کرتی اور اعمال کا دفتر سجاتی رہتی ہے۔ لہذا غفلت کو تو قدم رنجا کی گنجائش ہی نہیں۔ علامہ اقبال نے اسی صداقت کو لفظوں کے سانچے میں یوں ڈالا ہے۔
 "ساعتیں گردش میں ہیں، خوابیدہ نہ ہو
زندگی فطرت کی اک دم دم بہ دم تحریک ہے"
       انسان کا اصل سرمایہ مال و دولت، سیم و زر نہیں بلکہ اس کی زیست ہے وہ بہت قیمتی وقت ہے جو اسے دیا گیا ہے اور عمر مٹھی میں بھینچی ریت کی طرح ہر لحظہ گرتی اور سرکتی ہی جاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ساٹھ سال کی زندگی میں انسان کو صرف اٹھہتر ملین کے قریب لمحہ ملتے ہیں۔ یہی وہ دولت ہے جو اسے خالق کائنات کی طرف سے ملی ہے۔ اسے غفلت میں گذارنے کی بجائے انتہائی سوچ سمجھ کر اپنے فائدے کے لیے اخروی کامیابی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا سانسوں کی لڑی ٹوٹنے سے پہلے جو اسے زیاں سے محفوظ کرلے گا وہی خسارے سے بچ پائے گا۔ اس حوالیسے عصر کی قسم، ایک ندا ہے، ایک بیداری کی صدا ہے کہ اے غفلت کی نیند میں مدہوش انسان، بیدار ہو کہ وقت وہ قیمتی امانت ہے جو ایک بار ہاتھ سے پھسل جائے تو قیامت تک کے آنسو بھی اسے واپس نہیں لا سکتے۔ وقت کو اقبال نے اپنے اشعار میں یوں رقم کیا۔
سلسلہ روز و شب ازل کی فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکنات
تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلہ روز و شب صیر فی کائنات
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(2) "بیشک انسان خسارے میں ہے"۔
        اس سورت کے نزول کے وقت عرب کے حالات بہت دگر گوں تھے۔ مکہ مکرمہ میں اسلام کے ابتدائی سال تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ توحید ابھی محدود دائرے میں جاری تھی۔  اکثریت شرک، ظلم، فحاشی، جھوٹ، سود خوری اور طبقاتی استحصال میں مبتلا تھی۔ 
قریش کے سردار اپنی دولت، حسب نسب اور دنیاوی کامیابیوں پر فخر کرتے تھے۔ سچائی، صبر، عدل اور اجتماعی بھلائی کی قدریں کمزور ہو چکی تھیں۔ کمزوروں، غلاموں اور خواتین کے ساتھ سخت ظلم ہو رہا تھا۔ مکہ میں دینِ حق کی تبلیغ کرنے والوں کو مذاق، طعنہ زنی اور ظلم و ستم کا سامنا تھا۔ ایسے حالات میں قعر مذلت میں گری انسانیت کو بیدار کرنے، سربلند کرنے کے لیے سورہ العصر نازل ہوئی اور انسانیت کو اس عظیم اصول سے آگاہ کیا کہ "انسان سراسر خسارے میں ہے، ماسوائے ایک راستے کے کہ جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔ یقیننا کامیابی کا رستہ کٹھن اور طویل ہے صبر آزماء￿  ہے مگر بلند جذبے مسافر کو اعلی منزل تک لے ہی جاتے ہیں۔
        آج کا انسان، جو مادی سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی اصل کھو بیٹھا ہے، درحقیقت خسارے کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ یہ خسارہ محض دنیاوی متاع کا زیاں نہیں، بلکہ اپنے رب کی معرفت سے دوری، اپنی روحانی حقیقت سے انکار اور اپنے مقدس مقامِ خلافت سے انحراف ہے۔
     3-    سورہ العصر انسان کو نجات کی طرف راستہ دیکھاتی ہے جیسے ایمان، عمل صالح، حق بات کی تلقین اور صبر کا مضبوط دامن ہیں۔
1----ایمان محض زبان کا اقرار نہیں، بلکہ قلب کی اس حرارت کا نام ہے جو کائنات کے ہر ذرے میں زندگی کا نور بھر دیتی ہے۔ ایمان ایک اعلی نسل کے پودے کے بیج کی طرح ہے وہ پھوٹتا ہے تو گل و گلزار کر دیتا ہے پورے ماحول اور معاشرے کو اپنی خوشبو کو معطر کر دیتا ہے۔ یہ وہی رائی ہے جسے اللہ نے کہا نیکی چھوٹی بھی ہو تو اسے حقیر نہ جانو۔  اقبال کہتے ہیں. "ایمان، حرارت ہے، جہانِ تازہ کی بنیاد" ایمان وہ الہامی روشنی ہے جو تاریک راہوں میں چراغِ ہدایت بنتی ہے۔ ایمان اگر دل کی حرارت ہے تو عمل صالح اس حرارت کی خوشبو ہے۔ وہ عمل جو عدل، احسان، اخلاص اور فلاحِ خلق سے مہکتا ہو۔
اقبال نے زندگی کے اس راز کو یوں کھولا:
2---- "عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے"
قول و فعل ایمان اور عمل ہی وہ زینہ ہے جس پر چڑھ کر انسان ارض خاکی سے افلاکی رفعتوں کی منزل تک جا پہنچتا ہے۔
3.--- تلقینِ حق — حق کا پرچم تھامے رکھنا..
حق کا بول بالا کرنا انبیاء  و صلحاء  کا ورثہ ہے۔ یہ وہ امانت ہے جسے بلند رکھنے کے لیے صبر، حوصلہ اور جہادِ مسلسل درکار ہے۔ آج کی دنیا میں جب جھوٹ اور فریب کا بازار گرم ہے، حق کی صدا پھر سے بْلند کیے جانے کی ضرورت ہے۔
4---- صبر — راہِ حق کا زادِ راہ
صبر وہ روحانی قوت ہے جو مصائب کے طوفانوں میں چراغِ امید کو بجھنے نہیں دیتی۔
علامہ اقبال صبر کے عظیم مقام کو یوں بیان کرتے ہیں:
 "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر طوفاں سے ٹکرا جائے
نہ ہو خوفِ زمانہ، نہ ہو اندیشہ فردا"
صبر، راہِ عشق کا پہلا زینہ اور بندگی کی معراج کا پہلا قدم ہے۔
موجودہ انسانیت کے لیے سورہ العصر کا الہامی پیام
آج کا انسان، جو مشینی تمدن کا قیدی اور نفسانی خواہشات کا اسیر بن چکا ہے، سورہ العصر کی پکار کو سن کر اپنی کھوئی ہوئی اصل کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
یہ صدا ہمیں جھنجھوڑتی ہے اے انسان وقت کی عظمت پہ غور کر، ایمان کے نور سے اپنے دل کو زندہ کر، عملِ صالح سے اپنی زندگی کو سنوار، حق کا پرچم تھام، اور صبر کے زادِ راہ کے ساتھ طوفانوں کا سامنا کر!
یقیناً، اگر ہم سورہ العصر کو اپنے قلوب و اذہان میں بسا لیں، تو ہر فرد "مردِ مومن" بن سکتا ہے، جس کی نگاہ سے تقدیریں سنورتیں اور قبیلے جگمگاتے ہیں۔
اقبال کی صدا ہمارے دلوں میں پھر گونج اٹھے گی:
 "خودی میں ڈوب جا، اے پیکرِ گِل
یہی ہے رازِ زندگی، یہی ہے صبحِ جاوداں!"
اللہ رب العزت ہمیں قرآنِ حکیم کے ان ابدی پیغامات کو سمجھنے، دل میں بسانے اور عمل میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پل نہیں ملا
میرا گذرا ہوا کل مجھے واپس نہیں ملا
وارث شاہ نے ان سانسوں، لمحوں اور وقت کی قدر ان اشعار میں یوں اجاگر کی۔ 
جے تاں معاملے پین تے نس جاویں
عشق جالنا کھرا دہیلڑا ای
سچ اکھنا ای اج آکھ مینوں
ایہو سچ تے چھوٹ دا ویلڑا ای۔
یہی سانسیں ہیں کامرانی کے لیے جو کر سکتے ہو انہیں کو استعمال کر کے ممکن ہے اس کے بعد صرف پشتاوا اور آرزو کے علاؤہ کچھ ممکن نہیں۔
آمین یا رب العالمین۔ امین امین